خطبات محمود (جلد 25) — Page 73
خطبات محمود 73 $1944 اس قدر ناواقف تھا کہ میں اتنا بھی نہ سمجھ سکا کہ اس بچہ سے مراد میں ہوں۔لیکن دشمن کا یہ قول در حقیقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے انہی الفاظ کی تصدیق کر رہا تھا کہ " وہ جلد جلد بڑھے گا"۔خدا نے مجھے اتنی جلدی بڑھایا کہ دشمن حیران رہ گیا۔چند ماہ پہلے مجھے بچہ قرار دے کر وہ نا قابل قرار دے رہا تھا اور چند ماہ بعد وہ مجھے ایک شاطر ، تجربہ کار قرار دے کر میری برائی کر رہا تھا۔گویا بچپن کی عمر میں ہی اللہ تعالیٰ نے میرے ہاتھوں سے سلسلہ میں رخنہ ڈالنے والوں کو شکست دلوا دی۔یہ ویسے ہی ہوا جیسے حضرت مسیح ناصری سے ہوا۔ان کے دشمنوں نے بھی کہا تھا کہ ہم ایک بیچے سے کس طرح باتیں کریں۔جب حضرت مسیح ناصری اپنی والدہ کے ساتھ شہر میں آئے اور حضرت مریم نے لوگوں سے کہا کہ ان سے باتیں کرو۔تو انہوں نے یہی کہا کہ ہم ایک بچے سے کس طرح باتیں کریں۔یہی وہ بات تھی جس کی طرف قرآن کریم میں ان الفاظ میں اشارہ فرمایا ہے کہ كَيْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كَانَ فِي الْمَهْدِ صَبِيَّ - - پس اُس وقت میرے متعلق دشمنوں کی طرف سے یہی کہا جاتا تھا کہ یہ ایک بچہ ہے مگر باوجود اس کے کہ یہ لوگ مجھے بچہ سمجھتے تھے اور باوجود اس کے کہ میں واقع میں بچہ تھا، میری عمر اس وقت پچیس سال تھی، اللہ تعالی نے مجھے پچیس سال کی عمر میں ایک حکومت پر قائم کر دیا، اور میں حکومت بھی ایسی جو روحانی حکومت تھی۔جسمانی حکومت میں تو بادشاہ کے پاس تلوار ہوتی ہے ، طاقت ہوتی ہے، جتھا ہوتا ہے، فوجیں ہوتی ہیں، جرنیل ہوتے ہیں، جیل خانے ہوتے ہیں، ہم خزانے ہوتے ہیں۔وہ جس کو چاہتا ہے پکڑ کر سزا دیتا ہے لیکن حکومت روحانی میں جس کا جی ہے چاہتا ہے مانتا ہے اور جس کا جی چاہتا ہے انکار کر دیتا ہے۔زور اور طاقت کا کوئی سوال نہیں ہے ہوتا۔پھر خدا تعالیٰ نے مجھے اس حکومت روحانی پر ایسی حالت میں کھڑا کیا جب خزانہ میں صرف چند آنے تھے اور ہزارہا روپیہ قرض تھا اور پھر خدا تعالیٰ نے یہ کام ایسی حالت میں سپرد کیا جب جماعت کے ذمہ دار افراد قریباً سارے کے سارے مخالف تھے اور یہاں تک مخالف تھے کہ ان میں سے ایک شخص نے مدرسہ ہائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم تو جاتے ہیں لیکن عنقریب تم دیکھ لو گے کہ ان عمارتوں پر عیسائیوں کا قبضہ ہو جائے گا۔ایک میں پچیس برس کا لڑکا تھا جس کو ایک ایسی حکومت سپرد کی گئی جس میں طاقت و قوت کا نام و نشان ہے