خطبات محمود (جلد 25) — Page 587
خطبات محمود 587 $1944 بنیاد نہ رکھ دیں اس لیے ہماری جماعت کو آجکل خصوصیت سے یہ دعائیں کرنی چاہیں۔اللہ تعالیٰ اتحادیوں کو یہ توفیق عطا فرمائے کہ وہ انصاف سے کام لیں اور کوئی ایسا فیصلہ نہ کریں جو امن کو برباد کرنے والا یا آئندہ کسی نئی جنگ کی آگ میں دنیا کو جھونکنے والا ہو۔ہم ذاتی طور ہے پر بھی یہ پسند نہیں کر سکتے کہ یہ جنگ ایسی صورت میں ختم ہو کہ پھر ایک نئی جنگ کی ابھی سے بنیاد قائم ہو جائے۔ہم نے اس جنگ کے لیے بہت بڑی قربانیاں کی ہیں اور ہماری خواہش یہی ہے ہے کہ اللہ تعالی انگریزوں کو فتح دے اور اس کے ساتھ ہی انہیں اس بات کی بھی توفیق عطا ہے فرمائے کہ وہ عدل و انصاف سے کام لیں اور ناجائز دباؤ ڈال کر لوگوں کے دلوں میں لبغض و عداوت کی آگ کو نہ بھڑکائیں۔جہاں تک لڑائی کا سوال ہے ہمیں اس بات کا یقین ہے ہے کہ جرمنی وغیرہ ظالم تھے اور انہوں نے بلا وجہ جنگ کی۔اسی بناء پر ہم انگریزوں کی مدد کرتے رہے ہیں اور ان کی کامیابی کے لیے ہم نے دعائیں بھی کیں۔لیکن اس کے مقابلہ میں ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اگر وہ رویہ اختیار کیا گیا جس کے آثار ابھی سے ظاہر ہو رہے ہیں تو یہ لڑائی جاری رہے گی۔چاہے جرمنی اور جاپان مقابلہ میں نہ کھڑے ہوں۔مگر اور کسی نہ کسی وجہ سے انگریزوں وغیرہ کو لڑائی کے لیے آگے آنا پڑے گا۔بے شک لڑنے والے ہاتھ اور ہوں گے لیے مگر وہی بم ہوں گے جو آجکل استعمال کیے جاتے ہیں۔وہی جہاز ہوں گے جن سے آجکل کام لیا جاتا ہے۔وہی تو ہیں اور مشین گنیں ہوں گی جن سے آجکل ہلاکت بر پا کی جاتی ہے اور پھر دنیا ایک ہولناک تباہی کے کناروں پر کھڑی ہو جائے گی۔اتنی بڑی لڑائی اور اتنی بڑی خونریزی کے بعد جو موجودہ جنگ میں ہوئی ہے جلد ہی دنیا کا ایک اور جنگ کے لیے تیار ہو جانا ایک ایسا خیال ہے جو انسانی جسم کو کپکپا دیتا ہے۔اس لیے خدا تعالیٰ کے حضور ہمیں خاص طور پر دعائیں کرنی چاہیں کہ اللہ تعالی اتحادیوں کو اس بات کی توفیق عطا فرمائے کہ وہ صرف لڑائی کی علامات کو ہی نہ دبائیں بلکہ لڑائی کے اسباب کو بھی دور کرنے کی کوشش کریں۔اگر اس جنگ کے بعد اتحادیوں نے اپنی غلطی سے لڑائی کے حقیقی اسباب کو دور کرنے کی کوشش نہ کی اور مفتوح قوموں پر ناجائز دباؤ سے کام لیا تو جلد یا پندرہ ہیں سال کے بعد جب ہم میں سے بہت سے لوگ چل بسے ہوں گے پھر ہماری اولادوں کو ایک نئی مصیبت پیش آئے گی۔پھر انہیں جنگ کی