خطبات محمود (جلد 25) — Page 551
$1944 551 خطبات محمود ایسی محنت کرتے ہیں جو محنت عام طور پر عظمند انسان نہیں کیا کرتا۔ایک عظمند انسان کی مختلف ضرور تیں ہوتی ہیں۔مختلف خواہشات ہوتی ہیں، مختلف اغراض ہوتی ہیں، مختلف میلانات ہوتے ہیں اور وہ ان مختلف خواہشوں، مختلف میلانوں اور مختلف اغراض کے ماتحت اپنے اوقات اور اپنے اموال کی تقسیم کر دیتا ہے۔ہر چیز کے مناسب حال رقم مقرر کر دیتا ہے اور ہر چیز کے مناسب حال وقت مقرر کر دیتا ہے۔لیکن پاگل چونکہ ایک ہی طرف لگ جاتا ہے میں اور باقی تمام پہلوؤں سے اپنی توجہ کو ہٹا لیتا ہے اس لیے لوگ اُس کو پاگل کہتے ہیں۔ایک ہوش مند اور عقل و فہم رکھنے والا انسان کچھ وقت اپنے بیوی بچوں میں صرف کرتا ہے، کچھ وقت ہمسائیوں کے حقوق کی ادائیگی میں صرف کرتا ہے، کچھ وقت دکان وغیرہ میں صرف کرتا ہے، کچھ وقت اپنے پیشہ پر صرف کرتا ہے اور کچھ حصہ اُس کے اوقات کا سیر وسیاحت میں صرف ہو جاتا ہے۔اِس طرح اُس کا وقت مختلف کاموں اور مختلف ضرورتوں کو سر انجام دینے کے لیے تقسیم ہو جاتا ہے۔لیکن پاگل کی یہ حالت ہوتی ہے کہ اگر اسے اینٹیں ڈھونے کا من خیال آ جائے تو وہ دن کو بھی اینٹیں ڈھوتا رہے گا، رات کو بھی اینٹیں ڈھوتا رہے گا، صبح کو دیکھا جائے تو اس وقت بھی وہ اینٹیں ڈھو رہا ہو گا اور شام کو دیکھا جائے تو اُس وقت بھی وہ اینٹیں ڈھونے میں مشغول ہو گا۔نہ اُسے بیوی کا خیال ہو گا، نہ اُسے دوستوں اور عزیزوں کا خیال ہو گا اور نہ اُسے کسی اور کام کا خیال ہو گا۔وہ اپنے تمام اوقات صرف ایک ہی کام میں صرف کر دے گا۔یہی وہ بات ہے جس کی طرف مومنوں کو قرآن کریم میں ان الفاظ میں توجہ دلائی گئی ہے کہ مِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ حَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَة 1 فرماتا ہے اے مسلمانو! تمہارے سامنے صرف ایک ہی مقصد رہنا چاہیے کہ ہم نے مکہ فتح کرنا اور وہاں اسلام کو قائم کرنا ہے۔اس لیے مِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ حَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَةً تم جہاں سے بھی نکلو، جدھر سے بھی چلو تمہارے دل اور تمہارے دماغ پر صرف ایک ہی خیال غالب رہے کہ ہم نے کسی طرح مکہ فتح کرنا ہے اور وہاں اسلام کی بنیادوں کو پوری مضبوطی کے ساتھ قائم کر دینا ہے۔یہ پروگرام تھا جو مسلمانوں کا مقرر کیا گیا۔