خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 49 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 49

$1944 49 4 خطبات محمود میں ہی مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق ہوں (فرمودہ 28 جنوری 1944ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: آج میں ایک ایسی بات کہنا چاہتا ہوں جس کا بیان کرنامیر کی طبیعت کے لحاظ سے مجھے مے پر گراں گزرتا ہے لیکن چونکہ بعض نبوتیں اور الہی تقدیریں اس بات کے بیان کرنے کے ساتھ وابستہ ہیں اس لیے میں اس کے بیان کرنے سے باوجود اپنی طبیعت کے انقباض کے رُک بھی نہیں سکتا۔جنوری کے پہلے ہفتہ میں غالباً بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات کو ( میں نے غالبا کا لفظ اس لیے استعمال کیا ہے کہ میں اندازہ سے یہ کہہ رہا ہوں کہ وہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات تھی میں نے ایک عجیب رؤیا دیکھا۔میں نے جیسا کہ بارہا بیان کیا ہے، غیر مامورین کا اپنے کسی رؤیا کو بیان کرنا ضروری نہیں ہوتا اور میں خود تو سوائے پچھلے ایام کے جبکہ اس جنگ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے بعض اہم خبریں مجھے دیں، بہت کم ہی اپنی رؤیا بتا یا کرتا ہوں۔بلکہ ( اللہ بہتر جانتا ہے یہ طریق درست ہے یا نہیں) میں اپنے رویاء و کشوف اور الہامات لکھتا بھی نہیں اور اس طرح وہ خود بھی کچھ عرصہ کے بعد میری نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔چنانچہ ابھی لاہور میں مجھے چودھری ظفر اللہ خان صاحب نے ایک امر کے سلسلہ میں میرا ایک میں پچیس سال کا پر انار و یا یاد کر ایا۔پہلے تو وہ میرے ذہن میں ہی نہ آیا۔مگر بعد میں ہے -------