خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 476 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 476

خطبات محج محمود 476 $1944 کسی چون و چرا کے کہا بہت اچھا اور روپے لا کر دے دیے۔جس شخص پر آپ نے اتنا بڑا احسان کیا تھا وہ کب خاموش رہ سکتا تھا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو اس کا ذکر نہیں کرنا تھا۔لیکن اُس نے ہر جگہ ڈھنڈورا پیٹنا شروع کر دیا کہ میں فلاں کے پاس گیا اور اس کے نے میری مدد نہ کی، فلاں کے پاس پہنچا اور اُس نے مدد سے انکار کر دیا۔آخر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس گیا اور انہوں نے میرا حق دلوا دیا۔جب یہ بات پھیلی تو لوگوں میں نے ابو جہل پر ہنسنا شروع کیا کہ یہ عجیب بے غیرت آدمی ہے۔یہ تو کہا کرتا تھا کہ ان کے ساتھ بات کرنا بھی منع ہے اور ان کی سچی بات کو ماننا بھی جائز نہیں۔لیکن جس بات سے یہ لوگوں کو ی منع کیا کرتا تھا خود اس نے اس کی خلاف ورزی کی اور محمد سے ڈر کر اس کی بات مان لی۔آخر بڑھتے بڑھتے نوبت یہاں تک پہنچی کہ چھوٹوں سے بڑوں نے سنا اور بڑوں سے پھر اُن سے بڑوں نے سنا اور ہوتے ہوتے یہ بات عقبہ ، شیبہ وغیرہ کے پاس بھی جا پہنچی اور انہوں نے ابوجہل کو اس بات پر مجلس میں پکڑا کہ تم نے یہ کیا حرکت کی؟ جس بات سے تم دوسروں کو روکا کرتے تھے تم خود اس کے مرتکب ہوئے یہ کیا تمسخر ہے ؟ ابو جہل نے جواب دیا خدا کی قسم ! معلوم نہیں کیا ہوا۔میں ان کی بات تو سننے والا نہیں تھا۔لیکن جب میں نے دروازہ کھول کر دیکھا تو یوں معلوم ہوا کہ دو وحشی اونٹ محمد کے دائیں اور بائیں سے اس طرح میری طرف بڑھے کہ مجھے یوں معلوم ہوا کہ اگر میں نے انکار کیا تو یہ مجھے کھا جائیں گے۔اس وجہ سے مجھے طاقت نہ رہی کہ میں انکار کرتا۔2 اب چاہے اس کو معجزانہ طور پر سمجھ لو اور چاہے یہ سمجھ لو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اخلاقی طاقت اور جرآت دیکھ کر کہ باوجو د شدید مخالفت کے آپ ابو جہل کے گھر پر جا پہنچے، ابو جہل کے مشرک دماغ پر تو ہم کے اثر سے یہ صورت پیدا ہوگئی۔پس چاہے اس کو ابو جہل کے دماغ کے وہم کی ایجاد سمجھ لو ، چاہے صرف خدا کی نصرت کا معجزہ سمجھ لو بہر حال ہوا ہے یہی کہ ابو جہل نے بغیر کسی چون و چرا کے فورامال کی قیمت ادا کر دی۔تو یہ ہے وہ حلف الفضول جس کے متعلق میں نے رویا میں دیکھا کہ میں اپنی اولاد کو مخاطب کر کے کہہ رہا ہوں کہ اگر اسی قسم کا ایک معاہدہ وہ بھی کریں اور پھر اس کو پورا