خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 474 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 474

$1944 474 خطبات محمود ہوئی تھی اگر ایسا ہی ایک معاہدہ میری اولاد کر لے تو اس کے نتیجہ میں اس پر خدا کے فضل خاص طور پر نازل ہوں گے اور وہ کبھی تباہ نہ ہو گی۔یہ چیز جس کی طرف میں نے اشارہ کیا ہے اس وقت پوری طرح یاد نہیں کہ تاریخوں میں اس کا نام حلف الفضول ہے یا حلف الفضول ہے۔بہر حال دونوں لفظ عربی ہیں۔حلف کے معنے قسم کے ہیں اور حلف معاہدہ کو کہتے ہیں۔جہاں تک یاد پڑتا ہے غالباً حلف الفضول کا لفظ ہے۔یہ ایک معاہدہ تھا جو حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بعثت سے قبل ہوا جس میں زیادہ جوش کے ساتھ حصہ لینے والے تین فضل نام کے آدمی تھے اس لیے اس کو حلف الفضول کہتے ہیں۔اور اس معاہدہ کا مطلب یہ تھا کہ ہم مظلوموں کو ان کے حقوق دلوانے میں مدد کیا کریں گے اور اگر کوئی اُن پر ظلم کرے گا تو ہم اس کو روکیں ہے گے۔باہر سے جو لوگ مکہ میں آتے ہیں اُن میں سے کوئی حج کے لیے آتا ہے، کوئی عمرہ کے لیے آتا ہے اور کوئی تجارت کے لیے آتا ہے۔یہاں کی غذا اور دیگر تمام ضروریات باہر سے پوری ہوتی ہے ہیں۔اس لیے اگر وہ نہ آئیں تو گزارہ نہیں ہوتا اور اگر آئیں تو اُن پر ظلم ہوتا ہے۔بعض دفعہ لوگ اُن سے چیزیں لے لیتے ہیں اور قیمت نہیں دیتے اور بعض دفعہ چیز خراب کر کے واپس کر دیتے ہیں۔اس لیے انہوں نے معاہدہ کیا کہ جب کبھی اس قسم کی بات ہو گی حلف الفضول والے مل کر یا اکیلے اکیلے مظلوم کا حق دلوایا کریں گے اور اس بات میں ایک دوسرے کی تائید کریں گے۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھی ایک آدمی آیا اور اس نے ذکر کیا کہ اس قسم کا ایک معاہدہ ہوا ہے آپ بھی اس میں شامل ہوں۔آپ نے اس کو بہت پسند فرمایا یہ اور اس معاہدہ پر آپ نے بھی دستخط کر دیئے یعنی شمولیت کا اظہار فرمایا۔ورنہ ویسے تو آپ دستخط نہیں کر سکتے تھے۔بعد میں نبوت کے ایام میں بلکہ مدینہ کی زندگی میں ایک دفعہ ایک شخص نے ذکر کیا کہ یا رسول اللہ ! کفر میں بھی بعض اچھے کام ہوتے تھے۔چنانچہ اس نے حلف الفضول کا ذکر کیا اور عرض کیا کہ سنا ہے آپ بھی اُس میں شامل ہوئے تھے ؟ آپ نے فرمایا ہاں۔اگر جاہلیت کی کسی ایسی ہی چیز کی طرف جس طرح کہ حلف الفضول تھی مجھے پھر بلایا جائے میں تو میں اُس کو ضرور قبول کروں اور اُس میں شامل ہوں۔فرمایا لو دُعِيْتُ لأَجَبْتُ 1