خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 457 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 457

خطبات محمود 457 $1944 نہیں تھے اور شاید گوجرانوالہ میں ای۔اے۔سی تھے۔قادیان میں چند دنوں کی چھٹی پر آئے ہوئے تھے کہ میں اُن سے ملنے کے لیے گیا۔باتوں باتوں میں وہ بڑے جوش سے کہنے لگے میں تو کہتا ہوں بڑے مرزا صاحب فوت ہو گئے تو اچھا ہی ہوا۔میری طبیعت پر ان کا یہ فقرہ بہت ہی میں گراں گزرا۔مگر اُن کے اگلے فقرہ نے بتا دیا کہ ان کا منشاء بُرا نہ تھا بلکہ اچھا تھا۔گو اُن کا فقرہ مجھے پھر بھی گستاخانہ ہی معلوم ہوا۔اُنہوں نے کہا میں تو کہتا ہوں بڑے مرزا صاحب فوت ہو گئے تو اچھا ہی ہوا ورنہ گورنمنٹ نے جو یہ قانون بنایا ہے کہ جو شخص کسی مذہب کے پیرؤوں کی دل شکنی کرے گا، اُسے گرفتار کر لیا جائے گا۔اگر یہ قانون ان کی زندگی میں بن جاتا اور کوئی شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہتک کا ارتکاب کر دیتا تو انہوں نے باز نہیں آنا تھا۔وہ اس کی ایسی خبر لیتے اور اس طرح سختی کے ساتھ اس مذہب کی برائیاں بیان ہے کرتے کہ ذرا بھی قانون کی پروا نہ کرتے اور جیل خانے چلے جاتے۔میں اُس وقت سمجھا کہ انہوں نے نیک معنوں میں ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق یہ الفاظ استعمال کیے ہیں اور اس طرح اس محبت اور عشق کا اظہار کیا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلاة من والسلام کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات کے ساتھ تھا۔چنانچہ انہوں نے بڑے ہیں زور سے کہا میں تو کہتا ہوں بڑے مرزا صاحب فوت ہو گئے تو اچھا ہی ہوا۔ورنہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق اگر کوئی سخت کلامی سے کام لیتا تو انہوں نے باز نہیں آنا تھا اور ضرور جیل خانے چلے جانا تھا۔یہ واقعات ہیں جو ہم نے دیکھے ہوئے ہیں۔پس ہم جانتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ و آلہ و سلم کا ادب اور احترام ہمارے دلوں میں کس طرح کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ہم جانتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کتنا بڑا بلند مقام ہے اور ہم جانتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کے حضور جو مقام قرب حاصل ہے اُس کے قریب بھی اور کوئی شخص نہیں پہنچ سکتا۔میں ایک دفعہ قصور گیا اور وہاں میں نے اسلام کے محاسن اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فضائل کے متعلق تقریر کی۔میں نے یہ بیان کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہے