خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 380 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 380

خطبات محج محمود 380 $1944 ایک لمبے عرصہ تک نقصان اٹھایا۔مگر اب وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے قریباً سو فیصدی نفع دے سکتا ہے۔تیس فیصدی نفع تو دے بھی چکا ہے۔اسی طرح آہستہ آہستہ سائنس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی ایجادات کے ذریعہ بھی سلسلہ کے مقاصد کی تکمیل کے لیے بہت کچھ روپیہ جمع ہونا شروع ہو جائے گا۔انگلستان جو ساری دنیا کی دولت پر قبضہ کیے ہوئے ہے اس نے اِسی طرح دولت کمائی ہے کہ اس میں دو کمپنیاں ایسی پیدا ہو گئیں جو غیر ملکوں میں چلی گئیں اور اُنہوں نے اپنا کاروبار شروع کر دیا۔ایک امریکہ میں چلی گئی اور دوسری ہندوستان میں آگئی۔ہندوستان کی کمپنی زیادہ ترقی کر گئی اور اس طرح رفتہ رفتہ ان دو کمپنیوں کی وجہ سے انگلستان نے کئی ملکوں کی حکومت پر قبضہ کر لیا۔حالانکہ انگلستان کی آبادی بنگال کی آبادی سے بھی کم ہے۔لیکن باوجود اِس کے کہ اس کی آبادی اس قدر کم ہے ، اس نے ہندوستان پر بھی قبضہ کر لیا، اس نے افریقہ پر بھی قبضہ کر لیا، اس نے آسٹریلیا پر بھی قبضہ کر لیا جو ہندوستان سے دُگنا ملک ہے۔اسی طرح اور سینکڑوں نہیں ہزاروں چھوٹے چھوٹے جزیروں اور ملکوں کو اپنے زیر نگیں کر لیا۔اس وقت میں جب انگلستان کی دو کمپنیاں غیر ملکوں میں تجارت کے لیے گئی تھیں کون شخص یہ خیال بھی کر سکتا تھا کہ انگلستان اس ذریعہ سے اپنے علاقہ سے کئی عوشنے زیادہ علاقہ پر اور اپنی آبادی سے میں دسیوں گنے زیادہ آبادی پر حکومت کرلے گا۔انگلستان کی ساری آبادی چار کروڑ کی ہے لیکن اگر انگلستان کی رعایا کی آبادی دیکھی جائے جو دنیا کے مختلف ممالک میں پھیلی ہوئی ہے تو وہ انی کروڑ سے بھی زیادہ ہے۔گویا آبادی کے لحاظ سے اس نے ہمیں گنا آبادی کو اپنے ماتحت ہے کر لیا اور رقبہ کے لحاظ سے اپنے ملک سے کئی سوٹنے زیادہ رقبے پر قبضہ کر لیا۔مگر یہ بات ان کو مین کس طرح نصیب ہوئی؟ اسی طرح کہ وہ دنیا دار لوگ تھے انہوں نے کہا اگر ہم دنیا حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمارا کام یہی ہے کہ ہم دنیا کمانے کے لیے صحیح طریق اختیار کریں اور پھر اپنی امین جدوجہد اور کوشش کو کمال تک پہنچا دیں۔لیکن ہمارا کام دین کی تقویت کرنا اور اسلام کی بنیادوں کو ایسا مضبوط بناتا ہے کہ آئندہ کسی دشمن کو اس پر حملہ کرنے کی جرات نہ ہو سکے۔پس ہے اگر وہ دنیا میں اس طرح مصروف ہو گئے تھے کہ انہیں اپنے سر پیر کی بھی ہوش نہیں رہی تھی ہیں تو کیا ہمارا فرض نہیں کہ ہم دین کی ترقی کے لیے ان امور کی طرف ایسی توجہ کریں کہ اسلام اور ہے