خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 354 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 354

خطبات محمود 354 $1944 وہ نہ ہمارا باپ ہے اور نہ بیٹا ، نہ بھائی ہے نہ کوئی اور رشتہ دار۔یہی بات تھی جس نے اُن کو ہر چیز سے بے نیاز کر دیا تھا۔انہیں یقین تھا کہ خدا ہے اور اگر ہم اس کے لیے قربانی کریں تو اس کی محبت حاصل کر سکتے ہیں۔وہ اس نیت سے اپنے گھروں سے نکلے تھے کہ خدا تعالیٰ کی محبت۔حاصل کرنی ہے اور اس راہ میں کوئی روک ان کے رستہ میں حائل نہ ہو سکتی تھی۔اسی سلسلہ میں عبد اللہ بن ابی بن سلول کے بیٹے کا واقعہ ہے۔ایک دفعہ بعض انصار اور مہاجرین میں کچھ جھگڑا ہو گیا تو عبد اللہ بن اُبی نے جو منافق تھا انصار کو جوش دلانے کے لیے کہا کہ لَمِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِ جَنَّ الْاَعَةُ مِنْهَا الْأَذَلَّ 2 یعنی جب ہم مدینہ پہنچیں گے تو سب سے زیادہ معزز انسان (یعنی وہ خبیث خود سب سے زیادہ ذلیل انسان ( یعنی نَعُوذُ بالله رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مدینہ سے نکال دے گا۔یہ بات صحابہ کرام میں پھیلی تو عبد اللہ بن ابی کا لڑکا جو مخلص مسلمان تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا یارسول اللہ ! میرے باپ نے ایسی بات کہی ہے جس کی سزا قتل کے سوا کوئی نہیں ہو سکتی۔میں جانتا ہوں کہ اُس نے آپ کی ہتک کی ہے اور اُس کی سزا قتل ہے اور میں ایک درخواست لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہو اہوں اور وہ یہ کہ اس کے قتل کا حکم کسی اور کو دینے کے بجائے مجھے دیں۔تا ایسا نہ ہو کہ کسی وقت ایمان کی کمزوری کی حالت میں اپنے باپ کا قاتل سمجھ کر میں کسی مسلمان پر حملہ کر دوں۔پس آپ میرے باپ کے قتل کا می حکم مجھے دیں تاکسی مسلمان کا بغض میرے دل میں پیدا نہ ہو۔3 پس صحابہ نے بیٹوں، باپوں، بھائیوں، بیویوں اور خاوندوں وغیرہ سب کی محبت کو دلوں سے نکال دیا تھا۔ان کے قلوب میں صرف خدا تعالیٰ کی محبت رہ گئی تھی یا خدا تعالیٰ کے حکم کے مطابق رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی محبت ان کے دلوں میں تھی۔او پر مثالیں تو مردوں کی محبت کی تھیں۔عورتوں کی محبت بھی کم نہ تھی۔اُحد کی جنگ کے موقع پر جب یہ خبر مدینہ میں مشہور ہوئی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شہید ہو گئے ہیں اور مسلمانوں کا لشکر تشر بقر ہو گیا ہے تو یہ ایک ایسی خبر تھی کہ اس قسم کی خبر کو سن کر ہمارے ملک کی عورتیں اور بچے تو گاؤں چھوڑ کر بھاگ جائیں۔مگر مسلمان عورتیں اور بچے ہے