خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 353 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 353

$1944 353 خطبات محمود اولاد کا قتل ہو جانا اسے اور اس کے خاندان کو زندہ کر دے گا اور رشتہ داروں اور عزیزوں سے جدائی ہی حقیقی وصال کا موجب ہو گی۔پھر وہ کسی قربانی سے دریغ نہیں کرتا۔صحابہ کرام کو دیکھ لو چونکہ ان کے اندر حقیقی ایمان پیدا ہو چکا تھا اس لیے ان کے نزد یک موت و حیات برابر تھے ، وطن کو چھوڑ دینا اور عزیزوں سے جدائی اختیار کر لینا ان کے لیے کوئی بڑی بات نہ تھی۔خدا تعالیٰ کی راہ میں انہیں نہ اپنی موت کی پرواہ تھی اور نہ اپنے ہی رشتہ داروں کی، نہ انہیں اپنے وطن چھوڑنے کا خوف تھا اور نہ رشتہ داروں سے جدائی کا۔ان کے سامنے صرف ایک ہی بات تھی اور وہ خدا تعالیٰ کی رضا تھی۔اس کے لیے وہ سب کچھ قربان کر دینے کے لیے تیار تھے۔حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا واقعہ میں نے کئی بار سنایا ہے۔ایک دفعہ وہ اپنے گھر میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے آپ کے لڑکے عبد الرحمان بھی تھے اور باتیں ہو رہی تھیں۔عبد الرحمان بعد میں مسلمان ہوئے تھے اور بدر کی جنگ میں وہ کفار کے ساتھ ہو کر مسلمانوں سے لڑنے کے لیے آئے تھے۔انہوں نے اپنے باپ سے کہا کہ با کی جنگ میں آپ ایک موقع پر جوش میں بہت آگے نکل گئے۔میں ایک پتھر کی اوٹ میں اِس تاک میں بیٹھا تھا کہ یہ مسلمان جب واپس آئے گا تو اس پر حملہ کر کے قتل کر دوں گا۔جب و آپ قریب پہنچے تو میں حملہ کے لیے آگے بڑھا۔مگر جب دیکھا کہ آپ ہیں تو پیچھے ہٹ گیا اور میں نے خیال کیا کہ مجھے اپنے باپ کو نہ مارنا چاہیے۔یہ سن کر حضرت ابو بکر نے بے ساختہ کہا ہے کہ عبد الرحمان ! اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایمان نصیب کرنا تھا اس لیے میں نے تمہیں نہ دیکھا۔خدا کی قسم ! اگر میں تمہیں دیکھ لیتا تو ہر گز زندہ نہ چھوڑتا دیکھو دونوں دشمن کی صفوں میں سے آئے تھے۔ایک یہ سمجھ کر جان دینے کے لیے میدان میں آیا تھا کہ اسلام جھوٹا ہے اور دوسرا یہ سمجھ کر آیا تھا کہ کفر جھوٹا ہے۔وہ بھی اس نیت سے آیا تھا کہ اپنے مد مقابل کو شکست دینی ہے ہے اور وہ بھی اسی ارادہ سے آیا تھا مگر فرق یہ تھا کہ کفر موقع آنے پر پدری محبت سے مغلوب ہو گیا مگر اسلام نے بھائی کے دل سے بھائی کی، باپ کے دل سے بیٹے کی ، بیٹے کے دل سے باپ کی، خاوند کے دل سے بیوی کی اور بیوی کے دل سے خاوند کی محبت کو سرد کر دیا تھا۔وہ صرف یہی سمجھتے تھے کہ جو شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف تلوار اٹھا کر میدان میں آیا ہے ہے