خطبات محمود (جلد 25) — Page 339
$1944 339 خطبات محمود بیسیوں دفعہ بیان کر چکا ہوں۔مگر کتنے شخص ہیں جو اس پر باقاعدگی سے عمل کر رہے ہیں کہ جب نماز ختم ہو۔یہ مطلب نہیں کہ ضرور فرض نماز ہی کے بعد بلکہ مطلب یہ ہے کہ جب نماز سے انسان فارغ ہو جائے تو وہ بیٹھ کر 33 دفعہ تسبیح ، 33 دفعہ تحمید اور 34 دفعہ تکبیر کہے۔حالا نکہ اس کے بدلے میں انسان دوسروں سے پانچ سو سال پہلے جنت میں جاسکتا ہے۔کیا پانچ سو سال پہلے جنت کا مل جانا کوئی معمولی بات ہے۔میں تو سمجھتا ہوں ہزاروں لاکھوں روپے ہے لوگ اس غرض کے لیے دینے کو تیار ہو جائیں اگر وہ سمجھیں کہ انہیں ان روپوں کے بدلہ میں چھ مہینہ کی اور زندگی مل سکتی ہے۔حالانکہ چھ مہینے کی کیا حقیقت ہے ؟ کچھ بھی نہیں۔لیکن اگر کسی کو یقین ہو جائے کہ اب میری موت کا وقت آپہنچا ہے اور اس وقت اُسے کہا جائے کہ تمہیں ایک ہفتہ کی اور زندگی مل سکتی ہے تم اتنے ہزار روپے دے دو تو نہیں سمجھتا ہوں ایسے موقع پر اُسے ہزاروں باتیں یاد آجائیں گی کہ اگر ایک ہفتہ کی اور زندگی مل جائے تو میں فلاں کام بھی کرلوں، فلاں کام بھی کرلوں اور وہ اس غرض کے لیے اپنی آدھی جائیداد تک دینے کے لیے تیار ہو جائے گا۔اگر موت کے یقینی علم کے بعد صرف ایک ہفتہ کی زندگی کے لیے انسان اس قدر قربانی کر سکتا ہے تو جہاں پانچ سو سال کی زندگی ملتی ہو وہاں اس زندگی کے مین حصول کے لیے دل میں کسی تحریک کا پیدا نہ ہونا بتاتا ہے کہ لوگوں کو اس بات پر یقین ہی نہیں کہ یہ خدائی وعدہ ہے اور خدا اپنے وعدوں کو ضرور پورا کیا کرتا ہے۔اگر انہیں یقین ہوتا تو میں ہے سمجھتاہوں وہ سر کے بل چل کر مسجدوں میں آتے اور تسبیح و تحمید اور تکبیر کے ثواب سے حصہ پاتے۔مگر اتنا چھوٹا سا کام کرنا بھی انہیں دو بھر معلوم ہوتا ہے۔میں نے بتایا ہے کہ صحابہ کے می ول میں نیکی میں ترقی کرنے کا کس قدر جوش پایا جاتا تھا کہ غرباء کی یہ خواہش تھی امراء ہم سے نہ بڑھ جائیں اور امراء کی یہ خواہش تھی کہ غرباء ہم سے نہ بڑھ جائیں۔ایک اور صحابی کے متعلق لکھا ہے انہوں نے ایک دفعہ مجلس میں بیان کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دفعہ فرمایا تھا کہ جو شخص اپنے بھائی کی تجہیز و تکفین میں میں شامل ہوتا اور پھر اُس کا جنازہ بھی پڑھتا ہے اُسے ایک قیراط کے برابر ثواب ملتا ہے۔لیکن وہ شخص جو جنازہ پڑھنے کے بعد میت کے ساتھ جاتا اور اس کے دفن ہونے تک موجود رہتا ہے ہے