خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 299 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 299

$1944 299 خطبات محمود کہ قرآن کریم غلط پڑھا جا رہا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان کے منہ سے زبر کے بجائے زیر نکل گئی۔مگر اس پر اتنا شور مچانے کی تو کوئی وجہ نہ تھی۔اتنا کافی تھا کہ ان میں سے کوئی صاحب کھڑے ہوتے اور کہہ دیتے کہ قاری صاحب قرآن کے لفظ پر زیر نہیں بلکہ زبر ہے تو ہم لوگ ان کے ممنون ہوتے۔کیونکہ قرآن کریم کے پڑھنے میں اگر کوئی غلطی کرے تو اُس کی اصلاح کر دینا ایک نیکی ہے۔تمام عالم اسلامی میں یہ طریق ہے کہ رمضان میں تراویح پڑھانے کے لیے جہاں حافظ مقرر کیے جاتے ہیں وہاں سامع بھی مقرر کیے جاتے ہیں تا اگر حافظ کوئی غلطی کر جائے تو اس کی اصلاح کی جاسکے۔اگر قرآن کریم پڑھنے میں یہ معمولی سی غلطی گویا ہی قرآن کریم میں تحریف تھی تو کیا جب تراویح پڑھانے والے حفاظ کے ساتھ سامع مقرر کیے جاتے ہیں تو اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ حافظ صاحبان سے یہ امید کی جاتی ہے کہ وہ قرآن کریم میں تحریف کریں گے یا اپنی طرف سے باتیں قرآن کریم میں داخل کرتے جائیں گے اور اس بات کی نگرانی کے لیے سامع مقرر کیے جاتے ہیں؟ سامع مقرر کرنے کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ حافظ غلطی کر سکتا ہے۔مگر کیا اس غلطی کی بناء پر شور اور فساد کرنا جائز ہے ؟ ساری دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا قاری اور حافظ ہو جو ان تیس دنوں کی تلاوت کے دوران میں کوئی ایک بھی غلطی نہ میں کرے۔لیکن اگر یہ طریق اختیار کیا جائے کہ وہاں تراویح کے لیے جاتے وقت جھولیوں میں پتھر بھر کے لے جائیں اور جہاں کسی حافظ سے کوئی غلطی ہو، بجائے اُسے توجہ دلانے کے اُس پر سنگباری شروع کر دیں تو اگلے سال دنیا میں کہیں بھی نماز تراویح نہ پڑھی جاسکے۔غلطی ہو جانا ممکن ہے اور یہی وجہ ہے کہ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار قاری مقرر کیے ہوئے ہے تھے جو ایسی غلطیوں کی اصلاح کرتے رہتے تھے۔حدیثوں میں آتا ہے کہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن مجید کی تلاوت فرمارہے تھے کہ حضرت علی نے لقمہ دیا۔نماز کے بعد آپ نے حضرت علیؓ سے فرمایا کہ یہ تمہارا کام نہ تھا۔غلطی کی طرف توجہ دلانے کے لیے میں نے آدمی مقرر کیے ہوئے ہیں۔دہلی کے مسلمانوں نے جو اصول پیش کیا اُس کی رو سے تو چاہیے تھا کہ جب قرآن کریم کی تلاوت میں کوئی غلطی ہوتی تمام صحابہ نماز توڑ دیتے ہی اور شور مچانے لگ جاتے۔تو غلطی کا امکان انسان کے ساتھ لگا ہوا ہے اور جب کوئی غلطی ہے