خطبات محمود (جلد 25) — Page 277
$1944 277 محمود ต سنائی دیتی تھی۔صحابہ بازاروں میں سے گزرتے تھے ، ان کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے اور ان کی زبان پر یہ شعر جاری تھے۔کہ كُنتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِى فَعَمِيَ عَلَى النَّاظِرُ مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتْ فَعَلَيْكَ كُنْتُ أَحَاذِرُ ย رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت صحابہ کے دل میں جو کچھ تھی اُس کا تو ہم اندازہ بھی نہیں لگا سکتے۔مجھے بعض دفعہ ہنسی آتی ہے کہ ہماری جماعت کے بعض مخلص نوجوان مجھے چٹھیاں لکھتے ہیں کہ ہماری درخواست ہے کہ جب ہم مر جائیں تو ہمارا جنازہ آپ پڑھیں۔مجھے اُس وقت خیال آتا ہے کہ دیکھو ان کی عمر اس وقت 30 ،35 سال کی ہے اور میں ان سے بڑی عمر کا ہوں مگر یہ لوگ مجھے کہتے ہیں کہ میں ان کا جنازہ پڑھوں۔گویا وہ اپنے دل میں یہ ہے سمجھتے ہیں کہ ہم سارے مرتے چلے جائیں گے مگر یہ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔پس اس میں کوئی شبہ نہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موت کا خیال بھی ان کے دلوں میں نہیں ہے آسکتا تھا۔ان میں سے ہر شخص خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا، جوان ہو یا بوڑھا، مرد ہو یا عورت یہ سمجھتا تھا کہ ہم ان کے ہاتھوں میں ہی مریں گے اور یہ خود ہمارا جنازہ پڑھائیں گے۔مگر جب وہ زندہ رہ گئے ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہو گئے تو ایک قیامت ان پر آگئی۔پس یہ بھی ایک قیامت تھی اور بہت بڑی قیامت۔اگر لوگ سمجھ لیتے کہ قیامت یہی نہیں کہ دنیا کے تمام لوگ اکٹھے مر جائیں بلکہ کسی اور چیز کا نام بھی قیامت ہے تو وہ قیامت کا یہ دن آنے سے پیشتر زیادہ سے زیادہ روحانی فیوض اور برکات حاصل کرنے کی جدوجہد کرتے۔آخر ہر انسان نے ایک دن مرنا ہے۔پھر اگر کسی دن تمام لوگ اکٹھے مر جائیں تو یہ کونسی بڑی آفت ہے۔جب سب لوگ مرتے چلے آئے اور مرتے چلے جائیں گے تو اگر کسی دن اکٹھے سب لوگ مر گئے تو اسے ہر گز کوئی بڑی آفت قرار نہیں دیا جا سکتا۔آفت یہی ہے کہ وہ تو زندہ رہیں مگر ان کو روحانی زندگی بخشنے والا چلا جائے۔وہ جسے عرفِ عام میں قیامت کہا جاتا ہے اسے بھی ہم مانتے ہیں اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ جس خدا نے یہ دنیا پیدا کی ہے وہ اسے ایک دن ختم بھی کرے گا۔لیکن وہ قیامت کوئی صدمہ والی چیز نہیں۔صدمہ تب ہو جب کوئی ایسی چیز ظاہر ہو جو نرالی ہو۔مگر جب میں