خطبات محمود (جلد 25) — Page 274
$1944 274 خطبات محمود ย آخر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ آئے اور اُس مجلس میں گئے جہاں صحابہ بیٹھے ہوئے تھے۔آپ نے دیکھا کہ حضرت عمرؓ تلوار لیے کھڑے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ جو شخص کہے گا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے میں تلوار سے اُس کی گردن کاٹ دوں گا۔3 انسان اس قیامت کا اندازہ حضرت عمرؓ کے کاموں کو دیکھ کر بآسانی لگا سکتا ہے۔عمر وہ شخص ہے جس کی خوبیوں کو دنیا کی تمام قوموں اور مذاہب نے تسلیم کیا ہے۔یہاں تک کہ اسلام کے وہ شدید ترین دشمن جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر عیب لگانا اور آپ پر گند اُچھالنا اپنے لیے فخر کا موجب سمجھتے ہیں وہ بھی جس وقت ابو بکر اور عمرؓ کا ذکر آتا ہے یہ کہنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ یہ لوگ غیر معمولی وجو د تھے۔ان کی خوبیوں کا اعتراف کرنے سے اسلام کے شدید ترین دشمن یعنی عیسائی اور یہودی بھی نہیں رہ سکے اور انہوں نے تسلیم کیا ہے کہ ان کا درجہ غیر معمولی تھا۔پس وہ غیر معمولی انسان جس کی دشمنوں نے بھی تعریف کی ہے، جس کی ان لوگوں نے بھی تعریف کی ہے جو اس کے آقا کے دشمن تھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وس کی وفات پر شدتِ غم سے اُس کی حالت ایسی ہو گئی جو ایک ادنیٰ سے ادنی عقل والے بچہ کی بھی نہیں ہوتی۔بچے بھی جب ان کا باپ فوت ہو سمجھ جاتے ہیں کہ ان کا باپ فوت ہو گیا۔بچے بھی جب ان کی ماں فوت ہو سمجھ جاتے ہیں کہ ان کی ماں فوت ہو گئی۔مگر عمر جیسا با ہمت انسان جس نے ساری دنیا چند آدمیوں کے ساتھ فتح کر لی تھی تلوار لے کر مسجد میں گھومتا پھرتا تھا کہ اگر کسی نے یہ کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہو گئے ہیں تو میں اُس کی گردن کاٹ دوں گا۔بھلا کسی کی گردن کاٹنے سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس طرح زندہ ہو سکتے تھے۔مگر انہیں صدمہ اتنا شدید پہنچا تھا کہ وہ یہ سننا بھی برداشت نہیں کر سکتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہو گئے ہیں۔وہ سوچتے تھے مگر اپنے آپ کو اس بات کی کے ناقابل پاتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کی خبر پر یقین لائیں۔میں سمجھتا ہوں بہتوں کے دل اُس وقت مانتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہو چکے ہیں مگر شدتِ محبت کی وجہ سے وہ اس کا خیال بھی اپنے دل میں لانا اپنے لیے موت اور ہلاکت سمجھتے تھے۔آخر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ آئے اور جہاں