خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 215 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 215

$1944 215 محمود۔دشمن اعتراض کر سکتا ہے کہ جن لوگوں کے گزارہ کی کوئی صورت نہ تھی انہوں نے اپنی زندگیاں وقف کر دیں۔گو یہ بات ہے تو جھوٹ۔خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ روح ہماری جماعت میں نہیں مگر کم سے کم دشمن کے لیے اعتراض کا موقع تو ضرور ہے۔اس لیے وہ اقوام ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے سیاسی عزت دی ہے اگر اپنے فرائض کو ادا کریں تو اُن کی عزت قائم رہ سکتی ہے۔اگر ان کے اندر قربانی کا مادہ پیدا نہ ہوا تو ان کی عزت چھن جائے گی۔اس وقت دنیا میں ایسے انقلاب اور تغیرات ہونے والے ہیں کہ اگر ان قوموں نے جو اس وقت سیاسی طور پر معزز کبھی جاتی ہیں اپنا حصہ قربانیوں کا ادانہ کیا تو وہ گر جائیں گی اور وہ عزت پا جائیں گی جو اس می وقت سیاسی طور پر معزز نہیں سمجھی جاتیں۔قرآن و حدیث میں بھی ایسی پیشگوئیاں موجود ہیں جن سے پایا جاتا ہے کہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں عزت والی قو میں گر جائیں گی اور ادنی کبھی جانے والی معزز ہو جائیں گی۔اسلام نے تو کسی قوم کو ذلیل قرار نہیں دیا اور ہے قومی فرق کو تسلیم نہیں کیا۔اسلام کے نزدیک ہر شخص اگر خدمت دین کرے تو وہ معزز اور سر دار ہے۔مگر اُن قوموں کے لیے جو سیاسی طور پر معزز سمجھی جاتی ہیں بہت شرم کی بات ہو گی اگر وہ قربانیوں میں حصہ نہ لینے کی وجہ سے گر جائیں اور سیاسی طور پر ادنی سمجھی جانے والی ہیں قو میں آگے آجائیں۔پس میں تحریک کرتا ہوں کہ سیاسی طور پر معزز سمجھی جانے والی اقوام کے لوگ اپنے کو اور اپنی اولادوں کو دین کے لیے وقف کریں۔وقت بہت تھوڑا ہے اور کام بہت زیادہ ہے۔خدا تعالیٰ اب زیادہ انتظار نہیں کر سکتا۔اگر ہم سستی سے کام لیں گے تو خدا تعالیٰ اپنے کام کے لیے کوئی اور انتظام کرے گا اور ہماری بد قسمتی پر مہر ہو جائے گی۔کاش! ہمارے دل اس فرض کو پورے طور پر محسوس کریں۔اے عزیزو! کاش ہمارے ایمان آج ہم کو شرمندگی سے بچا لیں۔کاش ہمارے جسم میں ہماری روح کے تابع ہو کر ہمیں اپنا فرض ادا کرنے دیں۔کاش! ہمارے آج کے افعال قیامت کے دن ہم کو شر مساری اور روسیاہی سے بچالیں۔چاہیے تو یہ تھا کہ ہر فرد آگے بڑھتا اور اپنی زندگی وقف کرتا مگر کم سے کم ایک حصہ کو تو آگے بڑھنا چاہیے۔میں مانتا ہوں کہ