خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 193 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 193

$1944 193 خطبات محمود پچاس پچاس ہزار کی رقم ڈال دیں۔میں پنجاب کا ذمہ لیتا ہوں۔گولوگ ہمارے مخالف ہیں مگر یہ رقم پنجاب سے جمع کر دینے کا میں ذمہ لیتا ہوں۔بہر حال آپ کو یہ رقم میں جمع کر دوں گا۔اس پر ایک کمیٹی مقرر کی گئی جس میں مجھے بھی ممبر بنایا گیا۔میں نے اس کمیٹی کے اجلاس میں مختلف ممبروں پر زور دے کر اُن سے رقوم لکھوائیں اور صرف اس کمیٹی کے ممبروں سے گیارہ ہزار سے زائد کے وعدے لکھوا دیئے۔مگر لوگوں کے ڈر سے انہوں نے میری تجویز کو قبول نہ کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دو ہزار مجھ سے ان کو وصول ہوا اور پانچ سو سر فیروز خاں صاحب سے۔باقی چندہ انہوں نے وصول ہی نہ کیا بلکہ ایک دوسرے کو چندہ دینے سے روکتے رہے۔لیکن اس کے بر خلاف میں دیکھتا ہوں کہ یہاں میں عصر کی نماز میں اس کا ذکر کرتا ہوں اور عشاء کی نماز تک ہمیں اپنے اندازہ سے بھی زیادہ رقم وصول ہو جاتی ہے۔باہر کی جماعتوں کو بے شک اس سے صدمہ ہو گا کہ اُنہیں اس تحریک میں حصہ لینے کا موقع نہیں ملا۔لیکن اس مسجد اقصٰی کو دیکھو کہ اب یہ بھی تنگ ہو رہی ہے۔کس طرح ایک ایک قدم اٹھا کر ہم نے اس مسجد کو بڑھایا۔مگر حالت یہ ہے کہ اب پھر یہ مسجد خدا کے فضل سے تنگ ہو رہی ہے ہے۔اس مسجد کے ایک طرف پہلے عورتیں بیٹھا کرتی تھیں۔ان بیچاریوں نے اس جگہ کے لیے چندہ بھی دیا تھا مگر ہم نے ان کو نکال دیا۔اب مرد اس جگہ نماز پڑھتے ہیں اور عورتیں ہی ہمارے گھر میں نماز پڑھتی ہیں۔تو باہر کی جماعتوں کو فکر نہیں کرنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ اُن کے لیے نیکی کے میدان میں آگے بڑھنے کے اور کئی سامان پیدا کر دے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک دفعہ رویا میں دیکھا کہ قادیان کی آبادی بیاس تک پھیل گئی ہے۔21 میں اس رویا سے یہ سمجھا کرتا ہوں کہ قادیان کی آبادی دس بارہ لاکھ کی ضرور ہو گی۔اور اگر دس بارہ لاکھ کی آبادی ہو تو اس کے معنے یہ ہیں کہ چار لاکھ لوگ جمعہ پڑھنے کے لیے آیا کریں گے۔پس میرے نزدیک یہ مسجد بہت بڑھے گی بلکہ ہمیں اس قدر بڑھانی پڑے گی کہ چار لاکھ نمازی اس مسجد میں آسکیں۔اس غرض کے لیے اسے چاروں طرف بڑھایا جاسکتا ہے۔اس وقت بھی جس جگہ کھڑے ہو کر میں یہ مخطبہ پڑھ رہا ہوں یہ اُس حصہ