خطبات محمود (جلد 25) — Page 172
$1944 172 خطبات محمود ان کی وفات دل کے کمزور ہو جانے کی وجہ سے ، نہ کہ اصل آپریشن کی وجہ سے ہو گی۔چنانچہ اس کے بعد وہ بیمار ہوئیں اور انہیں ایک ہسپتال میں لے جایا گیا جہاں بظاہر علاج کرانا بہت مشکل تھا۔مردوں سے علاج کرانا عورتوں پر بہت گراں گزرتا ہے۔گو شریعت میں اس کی اجازت ہے۔چنانچہ میں نے خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے سنا۔آپ نے ایک دفعہ فرمایا کہ اگر کوئی عورت کسی ایسے مرض میں مبتلا ہو جاتی ہے جس کی معالج عورتوں میں کوئی نہ ہو اور کسی ماہر مرد ڈاکٹر سے علاج یا آپریشن کی ضرورت آپڑتی ہے تو ایسی صورت میں اگر وہ عورت مرد ڈاکٹر سے علاج نہیں کراتی اور اس مرض سے فوت ہو جاتی ہے تو ہمارے نزدیک وہ خود کشی کا ارتکاب کرتی ہے۔تو شریعت میں اس بات کی اجازت ہے مگر پر دو کے لحاظ میں سے عور تیں عام طور پر مرد ڈاکٹروں سے علاج کرانے سے بچنے کی کوشش کرتی ہیں۔مگر ان کی تین حالت ایسی نازک ہو گئی کہ ان خیالات کو چھوڑنا پڑا اور ایک ایسے ہسپتال میں ان کا آپریشن ہوا ہے جس کا نام دہلی کی ایک خاتون سے منسوب تھا۔پھر عجیب بات یہ ہے کہ جس وقت میں انہیں روپیہ دینے کے لیے گیا کہ سو روپیہ ہے فلاں عورت کو دے دو اور سو روپیہ جس عورت کو چاہو دے دو اُس وقت صرف ایک عورت ان کے پاس تھی۔مگر انہوں نے اپنی وفات سے چار پانچ دن پہلے اصرار کیا کہ فلاں عورت کو ہے بھی میرے پاس بھجوا دو۔چنانچہ جب ان کی موت کا وقت آیا تو دو عورتیں اُن کے پاس تھیں۔ایک ان کے دائیں طرف بیٹھی تھی اور دوسری ان کے بائیں طرف بیٹھی تھی۔خواب میں مجھے شیخ بشیر احمد صاحب نظر آئے تھے مگر جب میں نے دوستوں کو یہ خواب سنائی تو میں نے کہہ دیا کہ میر اخیال ہے اس سے مراد میاں بشیر احمد صاحب ہیں اور خوابوں میں بالعموم ایسا ہو جاتا ہے کہ ایک شخص کی بجائے دوسرا شخص نظر آجاتا ہے جو اس کا ہم نام ہو۔پس میں نے ہے کہا اس سے مراد میاں بشیر احمد صاحب ہوں گے۔شیخ بشیر احمد صاحب سے انہوں نے کیا بات کرنی تھی اور اُن سے بات کرنے کا موقع بھی کیا ہو سکتا تھا۔میاں بشیر احمد صاحب چونکہ میرے بھائی ہیں اس لیے میر اخیال ہے کہ اس سے مراد وہی ہیں۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔وفات کے قریب