خطبات محمود (جلد 25) — Page 119
$1944 119 خطبات محمود رض ہوتی رہتی ہیں۔اگر لاہور کے لوگ میری ان باتوں کو اُسی طرح یاد رکھیں جس طرح صحابہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باتیں تعہد کے ساتھ یاد رکھا کرتے تھے تو میں سمجھتا ہوں یہی باتیں ان کی زندگی کی کایا پلٹ کر رکھ دیں۔لیکن اگر اسی وقت پو چھا جائے کہ کل میں نے کیا کیا با تیں بیان کی تھیں؟ تو کئی لوگ کھڑے ہو کر کہہ دیں گے ہمیں اُس وقت مزا تو بڑا آیا تھا مگر یہ یاد نہیں رہا کہ آپ نے کیا کہا تھا۔اگر یہاں کی جماعت صحابہ کے طریق پر عمل ہے کرے اور نہ صرف باتیں سنے بلکہ ان کو یاد کرے اور دوسروں تک ان باتوں کو پہنچائے تو ان باتوں سے جماعت کو غیر معمولی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔آجکل ایک نوجوان میری ان باتوں کو لکھ بھی رہا ہے اور اس طرح وہ باتیں محفوظ ہو رہی ہیں۔اگر مجھ سے نظر ثانی کرانے کے بعد " تفہیمات لاہور یہ " کے نام سے یا اور کسی مناسب نام سے ان تمام باتوں کو ایک رسالہ کی صورت میں شائع کر دیا جائے اور لاہور کے دوست ہی اس کے اخراجات برداشت کریں تو میں سمجھتا ہوں یہاں کی جماعت کی تربیت اور اس کی ترقی کے لیے یہ ایک نہایت ہی مفید چیز ہو گی۔مگر صرف اتنا ہی کافی نہیں کہ ان باتوں کو ایک رسالہ کی صورت میں شائع کر دیا جائے بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ جماعت ان باتوں کو یاد ہیں کرے۔میں یہ نہیں کہتا کہ وہ اس کے الفاظ یاد کریں، میں یہ کہتا ہوں کہ وہ اس کے مضمون اور اس کی روح اور اس کے مفہوم کو یاد کریں اور نہ صرف خود پڑھیں بلکہ دوسروں کو بھی ہے پڑھائیں اور جب بعد میں لاہور میں اور لوگ ایسے آئیں جو ان مجالس میں شامل نہیں ہوئے تو ان کو وہ تمام باتیں ایک ایک کر کے سنائیں جس طرح صحابہ ایک دوسرے کو حدیثیں سنایا کرتے تھے۔یہ طریق ہے جس پر عمل کر کے وہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔خالی باتیں سننا اور ان پر عمل نہ کرنا کوئی مفید نتیجہ پیدا نہیں کرتا۔پس لاہور والوں کو چاہیے ، وہ " تفہیمات لاہور یہ " کے نام سے ان تمام باتوں کو ایک کتابی صورت میں شائع کر دیں اور پھر اس کا با قاعدہ درس دیں اور ایک دوسرے کو بتائیں کہ میں نے کیا کہا ہے۔اور پھر اس امر کی نگرانی کریں کہ لوگوں نے ان باتوں کو یاد کیا ہے یا نہیں کیا۔اگر یہاں کی جماعت کے دوست ایسا کریں تو یقیناً ان کی زندگیوں میں ایک نمایاں تبدیلی پیدا ہو جائے گی۔دنیا میں کوئی انسان ایسا نہیں ہوتا جو ہے