خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 106 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 106

خطبات محمود 106 $1944 انہوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ هَلَكَ الْقَوْمُ کہ جو پہلوں کو مل گیا وہ اب دوسروں کو نہیں - مل سکتا۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمان بالکل تباہ و برباد ہو گئے۔نہ مسلمانوں میں خدا رہے، نہ مسلمانوں میں فقیہہ رہے ، نہ مسلمانوں میں قاضی رہے، نہ مسلمانوں میں عارف رہے، نہ مسلمانوں میں محدث رہے کیونکہ جو چیز بھی تھی اسے گزشتہ لوگوں پر ختم کر دیا گیا اور کہہ دیا گیا کہ آئندہ لوگوں کو کچھ حاصل نہیں ہو سکتا۔یہ فطرت ان کی اس قدر بڑھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقابلہ میں بھی انہوں نے اسی حربہ سے کام لینا شروع کر دیا۔اس کے جواب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک فقرہ لکھا ہے۔وہ بظاہر ایک سادہ فقرہ ہے مگر انتہائی طور پر دلوں کی گہرائیوں پر اثر کرنے والا اور قلوب کو تڑپا دینے والا ہے۔آپ پر جب لوگوں نے اعتراض کیا کہ پہلے میچ سے آپ کس طرح بڑھ سکتے ہیں، تو می حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کا جواب دیتے ہوئے ایک جگہ تحریر فرمایا کہ یہ لوگ تو اس طرح باتیں کر رہے ہیں گویا ان کے نزدیک جو کچھ ہے پہلا مسیح ہی ہے ، دوسرا مسیح کچھ چیز نہیں۔یہ بظاہر ایک سادہ سا فقرہ ہے۔مگر کس طرح اس گری ہوئی ذہنیت کی دھجیاں اڑارہا ہے جو مسلمانوں میں پیدا ہو چکی تھی کہ تم کہتے یہ ہو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور اپنے ساتھ تمام ترقیات کے سامان لائے، تم کہتے یہ ہو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور اپنے ساتھ تمام برکات لائے، تم کہتے یہ ہو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور می اپنے ساتھ تمام انوار لائے۔مگر دوسری طرف تم اسی منہ سے یہ بھی کہہ رہے ہو کہ اب تمام برکتیں ختم ہو چکیں، تمام فیضان بند ہو چکے ، اب کوئی شخص وہ مقام حاصل نہیں کر سکتا جو پہلے میں لوگوں کو ملا۔یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے لوگوں کو ملا گویا اسلام کا چشمہ نَعُوْذُ بِاللهِ خشک ہو گیا ہے، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیضان نَعُوذُ بِاللهِ ختم ہو گیا ہے، قرآن کا زندگی بخش اثر نَعُوذُ بِالله جاتا رہا ہے۔اب خواہ لاکھ کوششیں کرو تمہیں وہ برکات کبھی نہیں مل سکتیں جو پہلے لوگوں کو ملیں۔یہ تو ایسی گندی تعلیم ہے، یہ تو ایسی قوم ہے کو تباہ و برباد کرنے والی تعلیم ہے کہ کوئی انسان جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت می رکھتا ہو، کوئی انسان جس کے دل میں خدا تعالیٰ کا سچا ادب پایا جاتا ہو ایک منٹ بلکہ ایک سیکنڈ کے ہے