خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 92 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 92

$1944 92 خطبات محمود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسلمان نظام اسلام اور اس کے تمدنی احکام کو سمجھنے میں کر چکے ہیں اور یہ سب کچھ خدا تعالیٰ نے سورہ فاتحہ کے ذریعہ سے ہی مجھے سمجھا دیا۔اور اس رویا کی اصل تعبیر یہ تھی کہ میرے قوائے باطنیہ میں سورہ فاتحہ کا علم خصوصاً اور فہم قرآن کا عموما من رکھ دیا گیا ہے جو وقتاً فوقتاً الہام باطنی کے ساتھ ضرورت کے مطابق ظاہر ہوتارہے گا۔چھٹی شہادت اس بارہ میں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنی وحی سے نوازا اور اس بات کی بھی ہے کہ اُس نے اُس کام کے لیے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئی میں ہے مجھے تیار کیا ہے یہ ہے کہ مجھے ایک رویا ہوا جو غالباً زمانہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ابتدائے خلافت حضرت خلیفہ اول میں میں نے دیکھا تھا۔(یہ رویا میں نے اُسی وقت میجر سید حبیب یب اللہ شاہ صاحب حال سپر نٹنڈنٹ سنٹرل جیل لاہور کو اور دوسرے احباب کو سنا دی تھی۔ابھی چند دن ہوئے انہوں نے خود بخود مجھ سے اس رویا کا ذکر کیا۔میں نے دیکھا کہ میں مدرسہ احمدیہ میں ہوں اور اُسی جگہ مولوی محمد علی صاحب بھی کھڑے ہیں۔اتنے میں شیخ رحمت اللہ صاحب آگئے اور ہم دونوں کو دیکھ کر کہنے لگے آؤ مقابلہ کریں۔آپ کا قد لمبا ہے یا مولوی محمد علی صاحب کا۔میں اس مقابلہ سے کچھ ہچکچاہٹ محسوس کرتا ہوں مگر وہ زبر دستی مجھے کھینچ کر اُس جگہ پر لے گئے جہاں مولوی محمد علی صاحب کھڑے ہیں۔یوں تو مولوی محمد علی صاحب قد میں مجھ سے چھوٹے نہیں بلکہ غالباً کچھ لمبے ہی ہیں لیکن جب شیخ صاحب نے مجھے اور اُن کو پاس پاس کھڑا کیا تو وہ بے اختیار کہہ اٹھے کہ میں تو سمجھتا تھا مولوی صاحب اونچے ہیں لیکن اونچے تو آپ نکلے۔چنانچہ رویا میں میں دیکھتا ہوں کہ بمشکل میرے سینہ تک ان کا سر پہنچا ہے۔پھر شیخ رحمت اللہ صاحب ایک میز لائے اور اُس پر اُن کو کھڑا کر دیا مگر تب بھی وہ مجھ سے چھوٹے ہی رہے۔اس کے بعد انہوں نے اُس میز پر ایک سٹول رکھا اور اُس پر مولوی صاحب کو کھڑا کیا مگر پھر بھی مولوی صاحب مجھ سے چھوٹے ہی رہے۔اس کے بعد انہوں نے مولوی صاحب کو اٹھا کر میرے سر کے برابر کرنا چاہا لیکن وہ پھر بھی نیچے ہی رہے۔بلکہ مزید براں اُن کی ٹانگیں اس طرح ہوا میں لٹک گئیں گویا کہ وہ میرے مقابل پر بالکل ایک بچہ کی حیثیت رکھتے ہیں اور بمشکل میری کہنیوں تک پاؤں آئے۔اب دیکھو! اس میں کس طرح ہے