خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 764 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 764

$1944 764 خطبات محمود بے حساب تعداد کا کھانا ایک شخص مانگے تو منتظمین مجبور ہوتے ہیں کہ اُسے اُتنا ہی کھانا دیں۔چونکہ کوئی حساب وغیرہ ہوتا نہیں بعض لوگ تعداد کو حد سے بڑھا دیتے ہیں مگر حساب میں آکر زیادہ پابندی ہو جاتی ہے۔پس افسروں کو چاہیے کہ جن لوگوں نے اپنے مکان مہمانوں کے لیے پیش کیے ہیں یا جن گھروں میں مہمان اُتریں گے اُن کے افراد کی فہرست پہلے سے حاصل کر لیں اور یہ معلوم کر لیں کہ اُن کو اپنے گھر کے لیے کتنے آدمیوں کا کھانا درکار ہو گا۔ایسی ہیں فہرستیں حاصل کر کے وہ اُن کو وقت سے پہلے چیک بھی کر سکتے ہیں اور دیکھ سکتے ہیں کہ واقعی اُن کے افراد اتنے ہی ہیں جتنے انہوں نے بتائے ہیں اور انہوں نے اس تعداد میں کوئی زیادتی تو نہیں کی۔جلسہ کے بعد دیکھا گیا ہے کہ بچی ہوئی سینکڑوں من روٹیاں جانوروں وغیرہ کے لیے فروخت ہوتی ہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ لوگ بے احتیاطی سے کھانا منگوالیتے ہیں۔پس ایک تو اس احتیاط کی ضرورت ہے۔دوسرا طریق یہ ہے کہ پبلک کی اچھی طرح تربیت کی جائے اور ان کو اچھی طرح ہیں سمجھایا جائے کہ اس بے احتیاطی سے سلسلہ کو کتنا نقصان پہنچتا ہے۔صحیح تربیت کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔میرا ایک خطبہ میں ایک بات بیان کر دینا کافی نہیں ہو سکتا۔چاہیے کہ ان ایام میں میں متواتر جلسے کیے جائیں اور ضروری ہدایات ہر چھوٹے بڑے کے اچھی طرح ذہن نشین کی جائیں۔اس کے بغیر تربیت نہیں ہو سکتی۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بار بار نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے۔اب اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہتے کہ جب خدا تعالیٰ نے حکم دے دیا ہے تو اب میرے کہنے کی کیا ضرورت ہے جو اللہ تعالیٰ کی بات نہیں مانتاوہ میری کب مانے گا۔اور اگر صحابہ یہ کہتے کہ اللہ تعالیٰ نے نماز کا حکم دیا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تاکید فرمائی ہے پس جس نے خدا تعالیٰ کی نہیں مانی، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نہیں مانی وہ ہماری کب مانیں گے تو کیا اسلام پھیل سکتا اور دنیا میں اتنے لوگ نماز پڑھنے والے پیدا ہو جاتے ؟ ہر گز نہیں۔خدا تعالیٰ نے حکم دیا، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم برابر اس کی تاکید فرماتے رہے۔پھر ابو بکر، عمر، عثمان، علی اور ہزاروں دوسرے صحابہ۔پھر ان کے بعد تابعین اور تابعین کے بعد نتبع تابعین اور پھر اُمت کے اولیاء۔مثلاً سید عبد القادر جیلانی، معین الدین چشتی،