خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 739 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 739

خطبات محمود 739 $1944 مالی قربانیوں کی فہرست جو شائع ہوئی ہے وہ بھی ہمارے لیے قابل غور ہے۔جنگ سے پہلے انگلستان کے سینکڑوں آدمی کروڑ پتی تھے اور کروڑ کروڑ ڈیڑھ ڈیڑھ کروڑ روپیہ اُن کی سالانہ آمدنی تھی اور اب یہ حالت کہ جنگ میں ٹیکسوں کے ادا کرنے کے بعد صرف دو تین درجن آدمی ایسے رہ گئے ہیں جن کی سالانہ آمدنی پچھتر ہزار روپیہ ہے اور اب انہوں نے پچاس فیصدی تک جنگ کے لیے ٹیکس لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔گویا جس کو سو روپیہ آمد ہو گی وہ ہے پچاس روپیہ جنگ کے لیے ٹیکس ادا کرے گا، جس کی پچیس روپیہ آمد ہو گی وہ ساڑھے بارہ روپیہ ٹیکس ادا کرے گا۔پس ایسی ہی قربانی ہوا کرتی ہے جس کے ذریعہ کامیابی اور فتح حاصل ہوتی ہے۔ہماری جماعت بھی جب تک اس عظیم الشان کام کے لیے جو اس کے سپر د کیا گیا ہے اور اس اعلیٰ درجہ کے مقصد کو مد نظر رکھتے ہوئے جو اس کے سامنے ہے اپنی قربانیوں کو انتہا تک نہ پہنچا دے گی اُس وقت تک اس کام میں کامیاب ہو نا مشکل ہے۔پس جہاں میں دفتر اول لمبا کرنے اور دفتر ثانی کو کھولنے کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ پانچ ہزار آدمی اور آگے آئیں اور اپنے اموال اسلام کی خاطر پیش کریں وہاں میں جماعتوں کو یہ بھی توجہ دلاتا ہوں کہ ہماری معمولی قربانیوں سے دین کو فتح حاصل نہیں ہو سکتی۔ہمیں ہر قسم کے لوگوں کی ضرورت ہے۔جب تک ہماری جماعت کے نوجوانوں میں بے انتہاء جوش نہ ہو کہ وہ آگے بڑھیں اور دین کے لیے اپنے آپ کو وقف کریں اور جب تک ہماری جماعت میں بے انتہا جوش نہ ہو کہ وہ بڑھ بڑھ کر اپنے اموال خدا کی راہ میں پیش کریں اُس وقت تک کامیابی حاصل کرنا مشکل ہے۔یاد رکھو! یہ اموال ہمیشہ نہیں رہیں گے اور یہ زندگیاں بھی ہمیشہ نہیں رہیں گی۔کوئی انسان زندہ نہیں رہتا۔ہم بھی اپنی زندگیاں بسر کر کے خدا کے پاس جانے والے ہیں۔یہ کی تنگیاں ہمارے ساتھ نہیں جائیں گی بلکہ ہمارے چندے اور ہماری قربانیاں ہمارے ساتھ جائیں گی۔یہاں کا کھایا ہوا ہمارے کام نہیں آئے گا بلکہ جو خدا کے رستہ میں خرچ کیا ہوا ہو گا وہی ہمارے کام آئے گا۔پس ابدی اور دائمی زندگی حاصل کرنے کے لیے آگے بڑھو۔آپ لوگوں کا دعوی ہے کہ آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کے مثیل ہیں۔