خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 721 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 721

$1944 721 خطبات محمود اخراجات ہیں اور یہ سب ملا کر میرا اندازہ ہے کہ ان پر ساٹھ ہزار روپیہ سالانہ خرچ آئے گا اور اس طرح گویا گل خرچ 13,98,700 روپیہ ہو گا۔اور اتنے اخراجات سے ہم جو کام شروع کریں گے اُس کی حیثیت آٹے میں نمک کی ہوگی۔ہم نے یہ جو اندازہ کیا ہے یہ قریباً 350 مبلغین کا، دیہاتی مبلغین اور مدرسین کو ملا کر ہے۔مگر عیسائیوں کی ایک ایک سوسائٹی کے دس دس ہزار مناد اس وقت کام کر رہے ہیں اور اُن کے گل مبلغین کی تعداد پچھتر ہزار ہے جن کے دو لاکھ کے قریب مدد گار بھی ہیں۔اور ہم نے ان سب کا مقابلہ کرنا ہے۔اور دنیا بھر میں عیسائی مشنریوں کی کل تعداد کا اندازہ بیس لاکھ کے قریب ہے۔ان کا ہی نہیں حکومت کا اندازہ ہے کہ ہندوستان میں چھ لاکھ کے قریب ہندو سادھو ہیں جو ملک میں پھرتے رہتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک اپنے مذہب کا مبلغ ہوتا ہے۔اور ظاہر ہے کہ اگر اتنی بڑی تعداد کے مقابلہ میں ہم 350 مبلغ بھیج بھی دیں تو اتنی بڑی تعداد سے ان کی نسبت ہی کیا ہو سکتی ہے۔لیکن یہ 350 مبلغ بھیجنے کے لیے بھی ہمیں قریبا ساڑھے تیرہ لاکھ روپیہ کا بوجھ ہے برداشت کرنا پڑتا ہے اور بظاہر ہماری جماعت یہ بوجھ اٹھانے کے بھی قابل نہیں ہے اور اگر ہم اس کام کا فی الحال چوتھا حصہ بھی شروع کریں تو بھی اسے شروع کرنے کے لیے 3,42,475 روپیہ کی ضرورت ہے۔مشرقی ممالک میں اور افریقہ کے بعض ممالک ایسے ہیں جن میں اخراجات یورپین ممالک کی نسبت کم ہوتے ہیں۔پھر افریقہ کے بعض علاقے ایسے ہیں کہ جہاں کے احمدی کچھ عرصہ کے بعد تبلیغ کا کچھ خرچ خود بھی برداشت کر سکیں گے۔اسے مد نظر رکھتے ہوئے اگر ساڑھے تین لاکھ روپیہ کل اخراجات کی رقم سے کم بھی کر دیا جائے تو میں بھی 10,09,900 روپیہ کی ضرورت ہو گی۔اور اگر اس کا بھی نصف کیا جائے پھر بھی قریباً پانچ لاکھ روپیہ سالانہ چاہیے۔اس سلسلہ میں ایک اور سوال یہ ہے کہ ابھی ہمارے پاس اتنے علماء تیار بھی نہیں ہیں۔اس وقت ساڑھے تین سو میں سے صرف چالیس آدمی ہمارے پاس ہیں اور وہ بھی ابھی تیار ہو رہے ہیں زیادہ مبلغ تیار ہونے میں ابھی تین چار سال اور لگیں گے اور اس میں کے بعد اس چھوٹی سکیم پر کام شروع کیا جاسکے گا جس کا اوپر ذکر ہوا ہے۔پس جب تک پورے مبلغ تیار ہوں اُس وقت تک دو لاکھ روپیہ سالانہ خرچ ہو گا۔اس وقت تک ہم نے جو