خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 710 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 710

خطبات محمود 710 $1944 عرب، شام، فلسطین، ترکی، بخارا، البانیه، ایران، افغانستان سب ایک حکومت کے ماتحت ہوتے تو دس بارہ کروڑ کی آبادی اس کی ہوتی۔جیسے امریکہ کی ہے اور اس صورت میں اس کی کوئی آواز بھی ہوتی۔مگر اب تو ایسا وقت ہے کہ شاید ان کی بات سننے کے لیے بھی کوئی تیار نہ کی ہو گا۔نام کو تو یہ کئی حکومتیں ہیں مگر چھوٹی چھوٹی اور ٹکڑے ٹکڑے ہونے کی وجہ سے ان کی کوئی آواز نہیں۔وہی حکومتیں جو آزادی کے نام پر جنگ کر رہی ہیں اُن میں سے ایک نے ایران کو نوٹس دیا ہے کہ اپنے تیل کے ذخائر ہمارے حوالے کر دو۔کیا یہی نوٹس کوئی انگلستان، امریکہ یا روس کو دے سکتا ہے؟ جس چیز کا ہزارواں حصہ اپنے بارہ میں مداخلت سمجھا جاتا ہے اُس بات کو دوسرے کمزور ہمسایوں کے بارہ میں حق اور جائز سمجھا جاتا ہے۔یہ صرف کمزوری کا نتیجہ ہے۔غرض آج مسلمانوں کا کوئی وقار دنیا میں نہیں۔پھر علمی لحاظ سے بھی ان کا وجود مٹتا جا رہا ہے۔ہندوستان کے پرانے علماء کی بھی یہی رائے ہے کہ پرانے علوم اب مٹتے جارہے ہیں اور اب مسلمانوں میں ان کے حصول کا شوق باقی نہیں رہا۔مصر کی از ہر یونیورسٹی جو اِن علوم کی سب سے بڑی یونیورسٹی ہے اس سے لوگوں کی دلچسپی بھی کم ہو رہی ہے۔مصر میں بھی نئے علوم کی یونیورسٹیاں قائم ہو رہی ہیں اور ہوشیار طلباء زیادہ تر اُن ہی میں داخل ہو رہے ہیں۔مسلمانوں میں اب تصوف بھی باقی نہیں رہا۔پہلے تو تصوف کے یہ معنے تھے کہ تصوف کی گدی پر بیٹھنے اور اس رستہ پر چلنے والا اللہ تعالیٰ کی ڈیوڑھی کا دربان ہو تا تھا مگر آج صوفی کے معنے دنیا کے پیسوں کا رکھوالا کے ہیں۔خدا تعالیٰ کی مدد اور نصرت اب ان کے ساتھ نہیں رہی اور صوفی کہلانے والے تو گل کے مقام سے بہت دور ہیں اور اب صوفیوں میں عام دنیا داروں والی باتیں پائی جاتی ہیں۔مولوی امام الدین صاحب مرحوم جو قاضی اکمل صاحب کے والد تھے ان کو یہ تصوف کی باتوں کا بہت خیال رہتا تھا اور وہ ہمیشہ مجھ سے سوال کیا کرتے تھے کہ پرانے صوفیاء کی مجالس میں جو باتیں ہوتی تھیں وہ یہاں نہیں ہیں۔کبھی عرش پر سجدے اور کبھی عرش پر خدا تعالیٰ سے باتیں ہوتی تھیں۔یہ کمالات یہاں بھی دکھائے جائیں۔میں اُن کو جواب دیا کرتا تھا مگر اُن کی تسلی نہیں ہوتی تھی۔ایک دن خدا تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا اور میں نے منی