خطبات محمود (جلد 25) — Page 68
$1944 68 خطبات محمود ☆ بات بیان کرنے لگا ہوں، میرے ذہن میں ایک اور مشابہت بھی آئی ہے مگر مجھے اس پر ابھی پورا یقین نہیں۔اس کے متعلق انشاء اللہ بعد میں تحقیقات کروں گا۔اور وہ مشابہت یہ ہے کہ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے شیخ بشیر احمد صاحب جس مکان میں رہتے ہیں اور جس میں رؤیا کے وقت میری سکونت تھی وہ ہوشیار پور کے رہنے والے ایک صاحب شیخ نیاز محمد صاحب پلیڈر مرحوم کا ہے۔پس یہ عجیب بات ہے کہ یہ رؤیا مجھے سفر میں آئی اور اس مکان میں آئی جو ہے ہوشیار پور کے رہنے والے ایک دوست کا مکان ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ الہامات بھی ہوشیار پور میں ہی ہوئے اور ان کی برادری کے ایک آدمی کے گھر پر ہوئے۔شیخ نیاز محمد صاحب کا بھی عجیب معاملہ معلوم ہوتا ہے۔میری ان سے کوئی زیادہ واقفیت نہ تھی۔ہاں یہ جانتا تھا کہ وہ ایک کامیاب وکیل ہیں اور یہ معلوم تھا کہ لوگوں میں خیال کیا جاتا تھا کہ وہ اچھے درجہ پر پہنچ جائیں گے۔مگر مجھے وہ صرف ایک دفعہ ملے تھے۔اس ملاقات کے مہینوں بلکہ سالوں بعد میں نے ایک رؤیا دیکھی کہ ایک بہت بڑا اثر دہام ہے جس میں ان کو ایک ہاتھی پر چڑھا کر لوگ جلوس کی صورت میں شہر کی طرف لا رہے ہیں۔بہت سے مسلمان جمع ہیں اور لوگوں کا بہت بڑا ہجوم ہے اور وہ بہت خوش ہیں کہ ان کو کوئی عزت ملی ہے یا ملنے میں والی ہے۔میں رویا میں دیکھتا ہوں کہ جلوس مفتی محمد صادق صاحب کے گھر کی طرف آرہا ہے میں ان کے گھر کے قریب جو موڑ ہے وہاں کھڑا ہو گیا اور جلوس نے اس طرف بڑھنا شروع کر دیا۔جس وقت وہ عین منزلِ مقصود پر پہنچ گئے جہاں ان کا اعزاز ہونا تھا تو یکدم آسمان سے ایک ہاتھ آیا اور وہ انہیں اٹھا کر لے گیا۔اس رؤیا کے مہینہ ڈیڑھ مہینہ کے بعد وہ فوت ہو گئے۔بعد میں معلوم ہوا کہ ہائی کورٹ کی جی کے لیے ان کا نام گیا ہوا تھا اور منظوری آنے ہی ☆ بعد میں تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ خیال درست تھا۔یہ صاحب ہوشیار پور ہی کے تھے اور شیخ مہر علی صاحب جن کے مکان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٹھہرے تھے اور جہاں ہے آپ کو 1886ء کے اشتہار والے الہامات ہوئے تھے اور جہاں آپ نے وہ اشتہار لکھا تھا، وہ ہے گو قریبی رشتہ دار تو ان کے نہ تھے مگر ان کی برادری میں سے تھے۔منہ