خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 647 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 647

خطبات محمود 647 $1944 اٹھائیس اٹھائیس ہزار روپیہ کے سات و عدے بن جاتے ہیں۔گو میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بعض حلقے ایسے ہیں جن کی طرف سے اس سے بھی زیادہ چندہ وصول ہونے کی امید ہے۔گورداسپور کے ضلع کے متعلق میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ اس کا چندہ قادیان میں ہی شامل ہو گا۔پس گورداسپور کے ضلع میں سے جو دوست خواہش رکھتے ہوں کہ انہیں اس تحریک میں شامل ہونے کا موقع ملے وہ اپنا چندہ مرکز میں بھیجوا دیں۔اُن کا چندہ قادیان کے چندہ میں شامل کر لیا جائے گا۔میں نے بتایا ہے کہ بعض اضلاع کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال ہوا تو مطلوبہ رقم سے بھی زیادہ رقم ان کی طرف سے جمع ہو جائے گی اور اس بات کی ضرورت بھی ہے کیونکہ تراجم کے خرچ کے متعلق میر اپہلے جو اندازہ تھاوہ غلط ثابت ہوا ہے۔میں نے فی کتاب ایک ہزار روپیہ ترجمہ کے خرچ کا اندازہ لگا یا تھا اور میں نے سمجھا تھا کہ چونکہ کتابیں چھوٹی بڑی ہوں گی اِس لیے کسی کتاب کے ترجمہ پر پانچ چھ سو روپیہ خرچ آجائے گا اور کسی پر ہزار یا اس سے زائد ، اور اس طرح مل کر ایک ہزار روپیہ فی کتاب ترجمہ کے خرچ کی اوسط نکل آئے گی۔لیکن میرا یہ اندازہ صحیح ثابت نہیں ہوا۔مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتاب " اسلامی اصول کی فلاسفی" کے متعلق میرا اندازہ تھا کہ چونکہ یہ چھوٹی سی کتاب ہے اس لیے پانچ چھ سو روپیہ میں اس کا ترجمہ ہو جائے گا۔مگر میرے اندازہ سے اِس کے حروف زیادہ نکلے اور اس طرح اس کے ترجمہ کا خرچ بڑھ گیا۔غرض تراجم کے متعلق جو انتظام کیا گیا ہے اُس کے متعلق اخراجات کا جو پہلا اندازہ تھا اُس سے زیادہ کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔اسی طرح " احمدیت " کے متعلق میرا خیال تھا کہ اس کا ڈیڑھ ہزار روپیہ میں ترجمہ ہو جائے گا اور چھوٹی بڑی کتاب مل کر ایک ہزار روپیہ فی کتاب ترجمہ پر خرچ آجائے گا۔لیکن احمدیت" کے ترجمہ کے متعلق مجھے ولایت سے یہ اطلاع آئی ہے کہ سات زبانوں میں اس کا ترجمہ اڑھائی سو پونڈ میں ہو گا۔جس کے معنے یہ ہیں کہ پانچ ہزار روپیہ محض ہے " احمدیت" کے ایک زبان میں ترجمہ کرنے پر خرچ ہو گا۔پس میرا اندازہ جو ڈیڑھ ہزار روپیہ کا تھا وہ غلط ثابت ہوا۔میں سمجھتا ہوں کہ گو ہماری طرف سے اٹھائیس اٹھائیس ہزار روپیہ کا ہی مطالبہ کیا گیا ہے لیکن امید ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بعض حلقوں کی رقوم اس سے بڑھ