خطبات محمود (جلد 25) — Page 637
خطبات محمود 637 $1944 حُب الوطنی کا جذبہ موجود ہوتا ہے مگر بہر حال فوج میں شامل ہونے سے اُن کی اصل غرض اپنی فوجی روح اور جنگی سپرٹ قائم رکھنا ہوتی ہے۔تیسرے وہ لوگ ہوتے ہیں جو کسی ہے بلند مقصد کے لیے فوج میں بھرتی ہوتے ہیں جیسے ہماری جماعت کے افراد جو فوج میں بھرتی ہے ہوئے انہوں نے میری ہدایات اور میرے احکام کے مطابق اپنے آپ کو بھرتی کے لیے پیش کیا بلکہ ہماری جماعت میں بعض ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنی معقول ملازمتیں ترک کر کے ان محض میرے حکم کی اطاعت کے لیے فوج میں بھرتی ہو گئے تاکہ وہ اس جنگ میں حصہ لے لی سکیں جس کے متعلق میں نے انہیں یہ کہا تھا کہ یہ ملک کی خدمت اور دنیا سے ظلم اور تعدی کو ی مٹانے کا ذریعہ ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ ہماری جماعت میں سے جس قدر لوگ فوج میں بھرتی ہوئے ہیں وہ سب کے سب ہلا استثناء اسی مقصد کو اپنے سامنے رکھتے ہوئے فوج میں بھرتی ہوئے ہیں۔ممکن ہے بعض احمدی بھی روپیہ کمانے کے لیے فوج میں بھرتی ہوئے ہوں۔اسی طرح ممکن ہے ہے بعض احمدی بھی جنگی روح اور اپنی خاندانی روایات کو قائم رکھنے کے لیے فوج میں شامل ہے ہوئے ہوں۔لیکن بہر حال ہماری جماعت کے وہ دوست جو محض میرے حکم کی تعمیل کے لیے ہے اس جنگ میں شامل ہوئے ہیں جو اس لیے فوج میں بھرتی نہیں ہوئے کہ دنیا کمائیں یا اپنی جنگی سپرٹ کو قائم رکھیں بلکہ اس لیے گئے ہیں کہ یہ جنگ دنیا سے ظلم مٹانے کے لیے لڑی جارہی ہے ہے اور مومن کا کام ہے کہ وہ جور اور ظلم کو مٹائے اور اپنے ملک کی خدمت کرے وہ یقیناد نیا کمانے کے لیے نہیں گئے بلکہ ثواب کمانے کے لیے گئے ہیں۔اور ایسے آدمی اگر اس جنگ میں ہے مارے جائیں گے تو وہ یقیناً جیسا کہ گزشتہ دنوں "الفضل " میں ایک بحث بھی چھپی تھی ایک رنگ کے شہید قرار پائیں گے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شہادت کا دائرہ محدود نہیں رکھا بلکہ اس کے دائرہ کو آپ نے بہت وسیع قرار دیا ہے۔ایک شہادت وہ ہوتی ہے جو خالص دینی جنگ میں شامل ہونے پر انسان کو حاصل ہوتی ہے۔جب اسلام پر اس کو مٹانے کے لیے دشمن کی طرف سے حملہ ہو تو اس وقت خطرات بہت زیادہ ہوتے ہیں اور اُس وقت جان جانے کا بہت زیادہ امکان ہوتا ہے۔اسی لیے جو شخص اس قسم کی مذہبی جنگ میں شامل ہوتا