خطبات محمود (جلد 25) — Page 624
$1944 624 خطبات محج محمود رہنے کے لیے قربانی کی ہو گی اُن کی وہ قربانی کام آجائے گی اور دوسروں سے پہلے دین کے کاموں میں حصہ لے سکیں گے۔پس ان حالات میں نہ تو میں یہ کر سکتا ہوں کہ جو پہلے ہیں اُن کو پیچھے کر دوں اور نہ ہی یہ کر سکتا ہوں کہ سات تراجم کے لیے بارہ کے وعدے لے لوں۔آخر سوچ کر میں نے فیصلہ کیا کہ چونکہ سینکڑوں کے دل میں اس موقع سے محروم رہنے سے خلش پیدا ہو رہی ہے اس لیے چاہیے کہ ان کو بھی فائدہ اٹھانے کا موقع دیا جائے۔اور ایسے حالات میں میں میں نے مناسب سمجھا کہ گزشتہ جمعہ میں جس امر کے متعلق خطبہ دینے کا اعلان میں نے کیا تھا اُسے ملتوی کر کے آج کے خطبہ میں اس بات کے متعلق بیان کر دوں تاکہ جو تراجم میں لینے کے لیے بے تاب ہیں اُن کو بھی موقع دیا جائے اور اُن کے لیے بھی اس تحریک میں حصہ لینے کا رستہ کھل جائے۔جیسا کہ میں نے اعلان کیا تھا سات زبانوں میں بارہ بارہ کتابوں کے سیٹ کی اشاعت کے خرچ کا اندازہ پانچ لاکھ چار ہزار روپیہ ہے (عربی اور انگریزی میں بارہ بارہ کتب کا ہے سیٹ چھپوانے پر ایک لاکھ بیس ہزار روپیہ خرچ کا اندازہ اِس کے علاوہ ہے ) اور قرآن مجید کے تراجم کی چھپوائی کا اندازہ ایک لاکھ پانچ ہزار روپیہ اور جلد بندی کا خرچ شامل کر کے ایک لاکھ ہے بائیس ہزار روپیہ کا اندازہ ہے۔تراجم کا بیالیس ہزار کا وعدہ تو آچکا ہے۔اب چھپوائی کا خرچ باقی ہیں ہے۔میں چاہتا ہوں کہ اس خرچ کے حصے کر دوں تاکہ سب کو حصہ لینے کا موقع مل سکے اور می ان پر کوئی ایسا بوجھ نہ پڑے کہ وہ دوسرے اہم چندوں میں پیچھے رہ جائیں۔اس لیے میں نے تجویز کی ہے کہ قرآن مجید کے سات تراجم کی اشاعت کا خرچ اور سات زبانوں میں بارہ بارہ کتابوں کے سیٹ کی مکمل اشاعت کا خرچ ( یعنی پانچ ہزار روپیہ ایک کتاب کا جلد بندی سمیت من چھپوائی کا خرچ اور ایک ہزار روپیہ ایک کتاب کا ایک زبان میں ترجمہ کا خرچ) میں خود جماعتوں پر تقسیم کر دوں۔قرآن مجید کے ایک زبان کے ترجمہ کی اشاعت کا پندرہ ہزار روپیہ اور ایک زبان میں ایک کتاب کی مکمل اشاعت کا چھ ہزار روپیہ یہ اکیس ہزار روپیہ بنتا ہے۔اگر خدا تعالیٰ توفیق دے تو چند افراد مل کر یا ایک ایک جماعت ہی یہ اکیس ہزار روپیہ کر تو سکتی ہے مگر اس قسم کی ساری جماعتیں نہیں ہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے کلکتہ کی جماعت نے ایک ہیں