خطبات محمود (جلد 25) — Page 62
$1944 62 محمود یہ نہیں کہا گیا تھا کہ وہ تین بیٹوں کو چار کرنے والا ہو گا۔الہام میں صرف یہ بتایا گیا تھا کہ وہ تین کو چار کرنے والا ہو گا۔پس میرے نزدیک یہ اس کی پیدائش کی تاریخ بتائی گئی ہے۔یہ پیشگوئی ابتدا می 1886ء میں کی گئی تھی۔پس 1886ء،1887ء، 1888ء تین سال ہوئے۔ان تین سالوں کو چار کونسا سال کرتا ہے ؟1889ء کرتا ہے اور سبکی میری پیدائش کا سال ہے۔پس تین کو چار کرنے والی پیشگوئی میں یہ خبر دی گئی تھی کہ اس کی پیدائش چوتھے سال میں ہو گی۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔اور یہ جو آتا ہے " دو شنبہ ہے مبارک دو شنبہ " اس کے اور معنے بھی ہو سکتے ہیں۔مگر میرے نزدیک اس کی ایک واضح تشریح یہ ہے کہ دو شنبہ ہفتے کا تیسرا دن ہوتا ہے؛ شنبہ پہلا، یکشنبہ دوسرا اور دوشنبہ تیسرا۔دوسری طرف روحانی سلسلوں میں انبیاء اور ان کے خلفاء کا الگ الگ دور ہوتا ہے اور جس طرح نبی کا زمانہ اپنی ذات میں ایک مستقل حیثیت رکھتا ہے اسی طرح خلیفہ کا زمانہ اپنی ذات میں ایک مستقل حیثیت رکھتا ہے۔اس لحاظ سے غور کر کے دیکھو پہلا دور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا تھا۔دوسرا دور حضرت خلیفہ اول کا تھا اور تیسر اوور میرا ہے۔ادھر اللہ تعالیٰ کا ایک اور الہام اس تشریح کی تصدیق کر رہا ہے اور وہ الہام ہے "فضل عمر " 14 حضرت عمر بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تیسرے مقام پر ہی خلیفہ تھے۔پس " دو شنبہ ہے مبارک دو شنبہ" سے یہ مراد نہیں کہ کوئی خاص دن خاص برکات کا موجب ہو گا بلکہ مراد یہ ہے کہ اس موعود کے زمانہ کی مثال احمدیت کے دور میں ایسی ہی ہوگی جیسے دو شنبہ کی ہوتی ہے۔یعنی اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے خدمتِ دین کے لیے جو آدمی کھڑے کیے جائیں گے ان میں وہ تیسرے نمبر پر ہو گا۔"فضل عمر " کے الہامی نام میں بھی اسی طرف اشارہ ہے۔گویا کلام اللہ میں يُفسّرُ بَعْضُهُ بَعْضًا کے مطابق " فضل عمر " کے لفظ نے " دو شنبہ ہے مبارک دو شنبہ " کی تفسیر کر دی۔مگر اس الہام میں ایک اور خبر بھی ہے اور خدا تعالیٰ مبارک دو شنبہ اب ایک ایسے ذریعہ سے بھی لانے والا ہے جو میرے اختیار میں نہیں تھا اور کوئی انسان نہیں کہہ سکتا کہ میں ہے