خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 578 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 578

خطبات محج محمود 578 $1944 کا اظہار کرتے ہیں وہی میدان جنگ ہیں۔صرف مجبوری اور بیکسی کی وجہ سے میدانِ جنگ نے ہالوں اور چوکوں کی صورت اختیار کی ہوئی ہے۔ورنہ اگر یہ مجبوری اور بیکسی نہ ہوتی اور یہ لوگ با قاعده میدانِ جنگ میں نکلنے کی طاقت رکھتے تو یہ بھی اُسی طرح انگریزوں سے لڑتے جس طرح اور قومیں آپس میں بر سر پیکار ہو رہی ہیں۔پس صرف تو پوں اور بموں کا کسی قوم سے چھین لینا قیام امن کے لیے کافی نہیں ہو تا بلکہ اُن اسباب کو دُور کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جو لڑائی کی محرک ہوتی ہیں۔اگر موجودہ جنگ کے نتیجہ میں بھی بعض قوموں سے بم چھین لیے گئے، تو ہیں چھین لی گئیں، ہوائی جہاز چھین لیے گئے تو اس کے یہ معنے نہیں ہوں گے کہ لڑائی ہے بند ہو گئی بلکہ اس کے معنے صرف یہ ہوں گے کہ لڑائی کی ایک علامت کو دبا دیا گیا ہے ورنہ لڑائی کا مادہ ماده موجود رہے گا اور خطرہ ہے کہ کسی دوسرے وقت زیادہ شدت سے نمودار ہو جائے۔کیونکہ لڑائی تلوار کے استعمال کا نام نہیں، لڑائی تو ہیں چلانے کا نام نہیں، لڑائی بم کرانے کا نام نہیں، لڑائی ہوائی جہازوں کو استعمال کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ علامتیں ہیں لڑائی ہے کی۔اس لیے اگر صرف ان علامتوں کو دبا دیا گیا اور لڑائی کے اصل سبب کو قائم رہنے دیا گیا تو وہی قومیں جن کو آج ذلیل سمجھا جاتا ہے پھر اپنے بغض اور کینہ کو نکالنے کے لیے ایک اور جنگ کی آگ بھڑ کا دیں گی۔یہ خیال کر لینا کہ جو قومیں آج مغلوب ہوں گی وہ ہمیشہ دنیا میں مغلوب ہی رہیں گے نادانی ہے۔قوموں کا عروج اور زوال ایک دوری کیفیت رکھتا ہے اور جو قوم آج غالب ہوتی ہے وہ کل مغلوب نظر آتی ہے۔اور جو آج مغلوب ہوتی ہے وہ کل غالب نظر آتی ہے۔آج سے چھ سات سو سال پہلے کون شخص یہ خیال کر سکتا تھا کہ انگریزوں کو کسی میں زمانہ میں بہت بڑی طاقت حاصل ہو جائے گی۔یا آج سے چھ سات سو سال پہلے کون شخص خیال کر سکتا تھا کہ امریکہ کسی زمانہ میں بہت بڑی طاقت شمار ہو گی۔یا آج سے بیس سال پہلے کون یہ خیال بھی کر سکتا تھا کہ روس دنیا کی ایک مضبوط طاقت بننے والا ہے۔وہ ایک راندہ ہوا اور مردود ملک تھا۔ساری قوموں نے اس کو ذلیل سمجھا ہو ا تھا اور وہ وہاں تک سامان بھی نہیں پہنچنے دیتے تھے مگر آج روس دنیا کی بہت بڑی طاقت سمجھا جاتا ہے۔پس یہ خیال کر لینا کہ جو قومیں اِس جنگ میں گر جائیں گی وہ آئندہ کبھی ترقی نہیں کریں گی اور ان کے حقوق کا فیصلہ صرف میں