خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 546 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 546

$1944 546 خطبات محمود پر اُسے پاگل کہا جائے مگر عمل ایسا کرے جو اپنی ہڈی پسلی کو بچانے والا ہو تو وہ شخص في الواقع پاگل ہے جو اپنی ہڈی پسلی کو بچا کر رکھنے کی خواہش رکھتا ہو۔اُسے ایسے ہی کاموں پر ہاتھ ڈالنا چاہیے جو ناممکن نہ ہوں۔مگر جو ایسے کام پر ہاتھ ڈالتا ہے اور ایسے کام کا دعوی کرتا ہے جس کا ہے دعوی اُس کے مخصوص حالات میں جنون ہی کہلا سکتا ہو تو پھر اُس کو پاگلوں کی طرح عمل بھی کرنا چاہیے۔مجھے یاد ہے حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں ایک عورت جو استانی تھی پاگل ہو گئی۔درمیان میں کبھی کبھی اس کی حالت درست بھی ہو جایا کرتی تھی۔ایک دفعہ عورتوں میں درس ہے ہو رہا تھا۔وہ بھی درس میں شامل تھی۔ہمارے گھر میں ہی درس ہوا کرتا تھا۔یکدم اُس عورت کو جنون کا دورہ ہوا اور وہ کھڑکی میں سے گود کر نیچے گرنے لگی۔حضرت خلیفہ اول نے اٹھ کر اُسے پکڑ لیا۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے دو چار ماہ کے بعد کا واقعہ ہے۔ابھی حضرت خلیفہ اول گھوڑے سے نہیں گرے تھے اور آپ میں اتنی طاقت تھی کہ ہے بعض دفعہ اپنا ہاتھ بڑھا کر فرمایا کرتے تھے کہ کوئی اسے ٹیڑھا کر کے دکھا دے۔آپ نے اُٹھ کر اُس عورت کو پکڑ لیا لیکن باوجود سارا زور لگانے کے وہ ڈیلی پتلی عورت آپ کے ہاتھوں سے ہے نکلی جاتی تھی۔اس پر آپ نے عورتوں کو آواز دی کہ یہ تو کرنے لگی ہے میری مدد کے لیے ہے آؤ۔پھر پانچ سات عورتوں نے آپ کے ساتھ مل کر اسے باندھا۔حالانکہ عقل اور ہوش کے ن زمانہ میں اس عورت کو 18،17 سال کا بچہ بھی پکڑ سکتا تھا۔پس مجنون انسان اپنی انتہائی طاقت استعمال کر دیتا ہے۔مگر دانشمند اس حد تک استعمال نہیں کر سکتا کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ خاص حد سے زیادہ اُس نے اپنی طاقتوں کا استعمال کیا تو اُسے نقصان پہنچے گا۔لیکن پاگل کا دماغ اُسے حد سے زیادہ طاقت خرچ کرنے سے نہیں روکتا۔کیونکہ وہ انجام کی پروا نہیں کرتا۔یہی وجہ ہے کہ پاگلوں میں بہت زیادہ طاقت آجاتی ہے۔ایک پاگل کو آٹھ آٹھ دس دس آدمی مل کر پکڑتے ہیں تب وہ قابو میں رہتا ہے۔اور وہی آدمی اگر عقلمند ہو اور اُس کے ہوش و حواس قائم ہوں تو اُس کو پکڑنے کے لیے ایک آدمی ہی کافی ہوتا ہے۔پس پاگل دو ہی وجہ سے پاگل کہلا تا ہے۔ایک تو اس وجہ سے کہ ایسے کام کا دعوی کرے جو عقل سے بالا ہو۔دوسرے اِس وجہ سے کہ