خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 514 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 514

$1944 514 خطبات محمود اللہ تعالیٰ کا علم تو ہوتا ہے مگر اُس تک پہنچنے کی حقیقی تڑپ نہیں ہوتی۔اس لیے جب بھی اُ۔ٹھوکر لگے وہ خدا کو چھوڑ دیتا ہے اور غیر اللہ کی محبت میں پھنس کر رہ جاتا ہے۔تھوڑا عرصہ ہوا میں نے قادیان میں عورتوں کے درس میں یہ بات بیان کی تھی کہ معلوم ہوتا ہے عورتوں کا ایمان مردوں کے لیے ہوتا ہے۔قادیان میں جتنے مردوں پر بھی ابتلاء آئے اور وہ مرتد ہوئے اُن سب کی بیویاں بھی اُن کے ساتھ ہی مرتد ہو گئیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اُن کا دین اور اُن کا ایمان صرف خاوند کی وجہ سے تھا۔جب خاوند کہتا تھا احمدیت ٹھیک ہے بیوی بھی کہتی تھی احمدیت ٹھیک ہے۔جب خاوند نے کہہ دیا کہ احمدیت درست نہیں تو بیوی نے بھی ساتھ ہی کہہ دیا کہ احمدیت درست نہیں۔جب خاوند کہتا تھا خدا ہے بیوی بھی کہتی تھی خدا ہے اور جب خاوند کہتا ہے خدا کوئی نہیں بیوی بھی کہتی ہے خدا کوئی من نہیں۔جس سے صاف طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ ایسی عورتوں کو اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں ہوتا اور اللہ تعالی تک پہنچنے کی سچی محبت اور تڑپ نہیں ہوتی بلکہ غیر اللہ سے پیار ہوتا ہے۔پس خدا تعالیٰ تک پہنچنے سے پہلے درمیان میں جتنی چیزوں سے انسان محبت اور رغبت کرتا ہے یا تو عدم علم کی وجہ سے کرتا ہے جیسے بچہ کو علم نہیں ہوتا وہ تو ضرور اصل مقام پر پہنچے گا کیونکہ اُس کے اندر حقیقی تڑپ ہے جو اُسے وہاں تک پہنچائے گی۔اور یا اللہ کا علم ہونے کے بعد بھی غیر اللہ۔رغبت رکھتا ہے اور اُن کی محبت کو نہیں چھوڑتا وہ لازمی طور پر گمراہ ہے۔کیونکہ وہ اُس فطری خلاء کو پر کرنے کے لیے غیر اللہ پر نہیں ٹھہرا بلکہ اصل چیز سے اُسے بعد اور تنفّر ہے جس کی وجہ سے وہ غیر اللہ پر ہاتھ مارتا ہے اور اُس کو چھوڑ نہیں سکتا۔بس أشهد أن لا إلهَ إِلَّا الله میں بتایا کہ تم اگر اپنی فطرت پر غور کر کے دیکھ لو تو تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ کس طرح قدم ہے قدم پر تم غیر اللہ کو چھوڑتے آئے ہو۔پستان کو چھوڑا، ماں کی گود کو چھوڑا، ساتھ کھیلنے والوں کو جو چھوڑا، سیر وشکار کو چھوڑا، کھانے پینے اور پہنے کی چیزوں کی محبت کو چھوڑا اور آخر جب ہمارے پاس پہنچ گئے تو یہاں آکر پھر ایسا دھر نا مارا کہ پھر یہاں سے نہیں ہلا۔کیونکہ یہی اس کا اصل مقصود تھا جو اُسے مل گیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگر تیرے سر پر آرہ رکھ کر تجھے چیرا جائے اور پھر بھی تیرے ایمان میں تزلزل یا وسوسہ پیدا نہ ہو تو