خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 499 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 499

خطبات محمود 499 $1944 برما، جاپان اور جزائر کا دروازہ ہے اور دوسری طرف یورپ اور امریکہ کا دروازہ ہے۔چونکہ یہ بڑا بھاری شہر ہے اور ہندوستان کا پرانا دارالامارہ ہے اس لیے بعض کمپنیوں کے جہاز بمبئی کی بجائے سیدھے کلکتہ آتے ہیں۔پھر یہ بنگال کا دارالامارہ ہے۔پنجاب کی کل آبادی اڑھائی کروڑ ہے جس میں سے نصف مسلمان ہیں۔لیکن بنگال کی کل آبادی پانچ کروڑ سے زیادہ ہے جس میں سے نصف مسلمان ہیں۔گویا پنجاب میں جتنے ہندو، سکھ اور مسلمان ہیں بنگال میں اتنی تعداد صرف مسلمانوں کی ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ۔پس یہ خاص اہمیت رکھنے والا صوبہ ہے اور کلکتہ ایک ایسا اہم مقام ہے کہ جہاں پر ہمارا مرکز ہونا نہایت ضروری ہے جس میں مسجد ہو، مہمان خانہ ہو ، لائبریری ہو ، مبلغ کے رہنے کا مکان ہو اور مختلف زبانوں میں لٹریچر رکھا جائے۔پھر کلکتہ سے واپس لوٹتے ہوئے راستے میں دہلی ہے جو سارے ہندوستان کا دار الامارة - ہے اور آجکل خصوصیت سے چاروں طرف سے مختلف قسم کے لوگوں کی ایک خاصی تعداد یہاں آکر بسی ہوئی ہے جو جنگی کاموں کے سلسلہ میں آئے ہوئے ہیں۔پھر یہاں پر مرکزی اسمبلی ہے اور راجے مہاراجے ہندوستان کا صدر مقام ہونے کی وجہ سے یہاں آکر رہتے ہیں۔غرضیکہ یہ جگہ ہندوستان کا مرکزی مقام ہے اور یہاں پر بھی احمدیت کا مرکز قائم کرنے کے ہیں لیے مسجد کے لیے ایسی جگہ ہونی چاہیے جو اس مرکزی شہر کی شان کے مطابق ہو۔اور صرف بلی کی جماعت پر اس کام کو چھوڑ دینا مناسب نہیں۔اس لیے ضرورت ہے کہ مرکزی جماعت اس کام کی ذمہ داری لے اور جماعت سے پوری قربانی کروانے کے بعد مرکزی طور پر امداد کا ہے انتظام کروائے۔پھر وہاں سے ادھر آکر لاہور ہے۔یہاں پر مسجد بھی موجود ہے اور جماعت بھی کافی تعداد میں ہے۔لیکن لاہور جیسے شہر کے لیے جو پنجاب کا مرکز ہے اس بات کی ضرورت ہے کہ یہاں پر ایک وسیع مسجد ہو۔موجودہ مسجد اتنی چھوٹی ہے کہ اگر ساری جماعت کے دوست آئیں تو اس میں سما نہیں سکتے۔میں نے دیکھا ہے کہ لاہور میں قیام کے دوران میں جب میں جمعہ پڑھانے کے لیے مسجد میں جایا کرتا تھا تو لوگ گلی میں اور چھتوں پر کھڑے ہو کر نماز پڑھتے تھے کیونکہ مسجد کے اندر جگہ نہیں ہوتی تھی۔پس وہ مسجد تو جماعت کی موجودہ وسعت کے لحاظ سے