خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 467 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 467

خطبات محمود 467 $1944 دنیا کے خوبصورت پہاڑی مقامات مثلاً کشمیر یا ڈلہوزی یا کھمیار 4 وغیرہ کیا جنت میں کہ اعلیٰ درجہ کے مقام کے مستحق ہو سکتے ہیں؟ اور کیا وہ کہہ سکتے ہیں کہ چونکہ ہمارے اندر بھی خوبیاں پائی جاتی ہیں اس لیے ہمیں بھی اللہ تعالی کی جنت میں جگہ ملنی چاہیے ؟ آخر کیوں وہ یہ مطالبہ نہیں کر سکتے ؟ اسی لیے کہ اُن کی بناوٹ اور اُن کی پختگی میں اُن کا کوئی ذاتی دخل نہیں۔اسی طرح اگر خدا نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے زور سے ایک بلند ترین مقام پر پہنچادیا تو اس کے معنے یہ ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نَعُوذُ بِاللهِ عزت کے مستحق نہیں کیونکہ اُن کا اِس مقام کو حاصل کرنا اُن کی کسی ذاتی خوبی کا نتیجہ نہیں خدا نے زبر دستی دوسروں کا راستہ روک کر اُن کو اس مقام پر پہنچادیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور آپ کے مقام کا احترام صرف اسی صورت میں ہے جب یہ تسلیم کیا جائے کہ ہر شخص کے لیے ہے خدا تعالیٰ کے قرب میں بڑھنے کا موقع تھا۔ہر شخص کا اختیار تھا کہ وہ آگے بڑھتا اور اپنے عشق اور اپنی محبت کے زور سے اس مقام کو حاصل کر لیتا۔خدا تعالیٰ نے ہر شخص کے اندر بلیتیں رکھی تھیں، ہر شخص کے اندر اس نے طاقتیں رکھی تھیں، ہر شخص کے اندر اس نے یہ ملکہ رکھا تھا کہ وہ نوع انسان کی خدمت یا عبادت یا محبت الہی میں ترقی کر کے اللہ تعالیٰ کے قرب کا بلند سے بلند مقام حاصل کرلے۔مگر باوجود اس کے کہ سب کو مشابہ طاقتیں دی گئی تھیں، سب کو مشابہ قابلیتیں دی گئی تھیں، سب کو آگے بڑھنے کے مشابہ مواقع حاصل تھے، سب کے لیے خدا تعالیٰ کے قرب کے راستے کھلے تھے پھر بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور سب سے آگے بڑھ گئے۔جیسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خداتعالی کے ہے قرب میں بڑھنے کے لیے موقع حاصل تھا ویسا ہی موقع آدم کو حاصل تھا، ویسا ہی نوح کو حاصل تھا، ویسا ہی ابراہیم کو حاصل تھا، ویسا ہی موسیٰ کو حاصل تھا، ویسا ہی عیسی کو حاصل تھا اور انہوں نے اپنے اپنے رنگ میں اللہ تعالیٰ کے قرب کے کمالات کو طے بھی کیا۔مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کمال یہ ہے کہ آپ نے اُن سب سے بڑھ کر اپنے عشق و محبت کا ثبوت دیا ہے اور اس طرح دنیا کے تمام لوگوں سے آگے بڑھ کر دکھا دیا۔ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ اگر کہیں بڑے بڑے پہلوان جمع ہوں اور اُن میں سے ایک پہلوان سب پر غالب آجائے تو و وہ