خطبات محمود (جلد 25) — Page 462
$1944 462 خطبات محمود الله سة لوگ دوڑے مگر چونکہ ان میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا عشق نہ تھا وہ اس زور سے نہ دوڑ سکے جس زور سے محمد رسول اللہ صلی علیکم دوڑے۔نتیجہ یہ ہوا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے نکل گئے۔پس اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک نہیں بلکہ عزت ہے۔اور یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کالج میں جب طالب علم جاتے ہیں تو ہر ایک کے لیے موقع ہوتا ہے کہ وہ دوسروں سے آگے نکل جائے۔مگر جب نتیجہ نکلتا ہے تو ایک آگے بڑھ جاتا ہے اور باقی پیچھے رہ جاتے ہیں۔اب اس کے آگے نکل آنے پر دوسرے لوگ یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس سے خاص رعایت کی گئی ہے۔کیونکہ رعایت کا تب سوال پیدا ہوتا ہے جب ان کے لیے محنت کا دروازہ بند کیا گیا ہوتا اور کہا جاتا کہ ہم نے اسی لڑکے کو آگے بڑھانا ہے، دوسروں کو آگے نہیں بڑھانا۔مگر جب ہر ایک کے لیے دروازہ کھلا تھا کہ وہ دوسروں سے آگے نکل جاتا تو ایک لڑکے کا محنت اور کوشش کر کے دوسروں سے آگے نکل جانا اُس کی قابلیت کا ثبوت ہو گا۔لیکن اگر یونیورسٹی کسی کو خاص طور پر آگے کر دے اور دوسروں کو جبر ایچھے رکھے تو ہر کہے گا یہ دھوکا بازی ہے ، یہ جانبداری اور طرفداری ہے۔دوسروں کا رستہ روک کر ایک کو آگے کر دینا ہر گز اُس کی قابلیت اور کمال کا ثبوت نہیں ہو سکتا۔ہاں! اگر ہر ایک کے لیے راستہ گھلا ہو، ہر ایک کو یہ آزادی حاصل ہو کہ وہ اپنی محنت کے مطابق جو مقام حاصل کرنا چا ہے کر لے تو اس کے بعد اگر ایک شخص محنت کرے، کوشش کرے، عرق ریزی سے کام لے، دماغی قوتوں کا صحیح استعمال کرے اور پھر دوسروں سے آگے بڑھ کر دکھا دے تو بے شک اس میں اُس کی بہت بڑی عزت ہو گی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق بھی یہی دو تی باتیں تسلیم کرنی پڑیں گی۔یا تو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی من قابلیت اور اپنے زور سے تمام بنی نوع انسان کو شکست دے کر اور اُن کو اس میدان میں پیچھے چھوڑ کر باوجود اس کے کہ اُن کے لیے بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ترقی کے راستے کھلے تھے اللہ تعالیٰ کے قرب میں بڑھ گئے۔وہ خدا تعالیٰ کے قرب میں بڑھے اپنی قربانیوں کی وجہ سے، وہ خدا تعالیٰ کے قرب میں بڑھے اپنی وفاداریوں کی وجہ سے ، وہ خدا تعالیٰ کے قرب میں بڑھے اپنی دینداری کی وجہ سے ، وہ خدا تعالیٰ کے قرب میں بڑھے اپنے تقوی اور اپنے اخلاص اور اپنی