خطبات محمود (جلد 25) — Page 428
$1944 428 خطبات محمود دینی مسائل سکھائیں وہ اور لوگوں کے رحم پر ہوں گے کہ وہ جس طرح چاہیں اِن سے سلوک کریں اور جس طرح چاہیں دین کو بدلتے چلے جائیں۔کیونکہ ایسی صورت میں ہندوستان دوسرے ممالک سے تعلیم حاصل کرنے کا محتاج قرار دیا جائے گا گو ہو گا نہیں۔میں امید کرتا ہوں کہ یہ میری آخری تنبیہ جماعت کی اصلاح اور اس کی بیداری کا موجب ہو گی۔میں اس کو آخری تنبیہہ اس لیے کہتا ہوں کہ وقت ایسا نازک آگیا ہے کہ چند مہینوں یا چند سالوں کے اندر اندر بیر و نجات میں نہایت سرعت کے ساتھ احمدیت پھیلنے والی ہے اور جنگ کے بعد ان جماعتوں کے بڑھنے کا زبر دست طور پر امکان پایا جاتا ہے۔پس بیشتر اس کے کہ بیر و نجات کے احمدی مرکز کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کریں اور ہندوستان کے لوگوں کی راہنمائی کا حق جاتا ہے چاہیے کہ ہندوستان میں ہماری جماعت کے افراد اپنی تعداد کو موجودہ تعداد سے کئی گنا بڑھا کر دکھا دیں اور پھر تعلیم و تربیت کی طرف بھی توجہ کریں تا کہ می ہندوستان کا حق قائم رہے اور اس کی رہنمائی پر کوئی اور ملک قبضہ نہ کرلے۔میں امید کرتا ہوں کہ جماعتیں اپنی ذمہ داری کو محسوس کریں گی اور نہ صرف تعداد میں اپنے آپ کو بڑھانے کی کوشش کریں گی بلکہ تعظیم میں بھی دوسروں کے لیے نمونہ بنیں گی۔میر امنشاء ہے کہ پرائیویٹ سیکرٹری کے ساتھ ایک اور سیکرٹری ایسا مقرر کروں جس کا کام ہندوستان کے لوگوں کو تبلیغ کی طرف توجہ دلانا ہو۔اس کا یہ بھی کام ہو گا کہ وہ بیعتوں کا نقشہ ہے تیار کر کے تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد اخبار میں شائع کرتا رہے تاکہ جماعتوں کو یہ معلوم ہو تا رہے کہ انہوں نے تبلیغی لحاظ سے کیا جدوجہد کی ہے اور جو جماعتیں غافل اور ست ہوں وہ بھی بیدار ہونے کی کوشش کریں۔اس طرح جو مبلغین باہر جاتے ہیں ان سے بھی کہا جائے گا کہ فلاں فلاں علاقہ میں جماعتیں کم ہیں ان علاقوں میں احمدیت کو بڑھانے کی کوشش کریں۔میں سمجھتا ہوں ہمیں تبلیغی نقطہ نگاہ سے شہروں کی طرف زیادہ توجہ کرنی چاہیے۔مثلاً دہلی ہے، لکھنو ہے، لاہور ہے، امر تسر ہے ، پشاور ہے ، راولپنڈی ہے ، ملتان ہے، منٹگمری ہے کیونکہ شہروں میں تنظیم اور تربیت نسبتاً آسان ہوتی ہے۔میرا یہ مطلب نہیں کہ دیہات میں تبلیغ ضروری نہیں۔دیہات اس بات کا زیادہ حق رکھتے ہیں کہ اُن کی طرف توجہ کی جائے۔