خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 427 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 427

خطبات محمود 427 $1944 تو انشاء اللہ ہر علاقہ میں یکدم ہزاروں لوگ ہمارے سلسلہ میں داخل ہونے شروع ہو جائیں گے۔باہر کے لوگوں میں ہندوستان کے لوگوں سے زیادہ بیداری پائی جاتی ہے۔چنانچہ جس جس ملک میں ہم نے اپنے مبلغ بھجوائے ہیں وہاں ہزاروں لوگوں نے بیعت کرلی ہے۔پس سب بیسیوں مبلغ باہر کے ممالک میں تبلیغ کے لیے بھجوائے گئے تو چند سالوں میں ہی لاکھوں لوگ خدا تعالیٰ کے فضل سے احمدیت میں داخل ہو جائیں گے۔مگر یہ بات ہندوستان کے لوگوں کے لیے نہایت ہی شرمناک ہو گی اور اس صورت میں باہر کے لوگوں کی باگ سنبھالنا بھی اس کے لیے سخت مشکل کام ہو جائے گا۔وہ لوگ کہیں گے کہ تمہارا کیا حق ہے کہ ہماری رہنمائی کرو۔ہم تعداد میں تم سے زیادہ ہیں۔ہم قربانیوں میں تم سے زیادہ ہیں اور تم ہمارے مقابلہ میں کوئی نسبت نہیں رکھتے۔اس لیے لوگوں کی رہنمائی کا حق ہمیں حاصل ہونا چاہیے اور مرکز ہمارے ہاتھ میں ہونا چاہیے تاکہ ہم جس طرح چاہیں دین کی اشاعت کا کام کریں۔تب احمدیت کے لیے وہی خطرہ کی صورت پیدا ہو جائے گی جو روما میں عیسائیت کے لیے پیدا ہوئی۔،فلسطین میں عیسائیوں کی تعداد کم ہو گئی اور اٹلی میں عیسائیت زیادہ پھیلنی شروع ہوئی تو جب عیسائیت کا مرکز فلسطین نہ رہا بلکہ اٹلی بن گیا۔اور چونکہ وہ مرکز کفر تھا اس لیے عیسائیت کفر کے رنگ میں رنگین ہونی شروع ہو گئی۔اسی طرح قادیان کی نگرانی کے بغیر جو مرکز بنے گا ہی چونکہ وہ قادیان کے مقدس ماحول کے زیر اثر نہیں ہو گا اس لیے وہ مرکز دین کے لیے تباہی کا یہ موجب ہو گا اس کے لیے کسی خیر اور برکت کا موجب نہیں ہو گا۔پس میں ایک دفعہ پھر جماعت کو ہوشیار کر دیتا ہوں کہ اسے ہندوستان کی تبلیغ کی ہے اہمیت سمجھنی چاہیے۔میں جماعت کو بتا دیتا ہوں کہ اس وقت ہندوستان کی مرکزی حیثیت خطرے میں ہے۔اگر جلد ہی ہندوستان کے احمدیوں نے اپنے اندر چستی اور ہوشیاری پیدا نہ کی تو قادیان جو ہمارا تبلیغ کا مرکز ہے اور ہندوستان جو اس مرکز کا ماحول ہونے کی وجہ سے تمام دنیا میں احمدیت کی تبلیغ اور اس کی اشاعت کے لیے بنیادی طور پر ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے اس میں کمزوری اور ضعف کے آثار پیدا ہونے شروع ہو جائیں گے۔اور ایسی صورت پیدا ہو جائے گی کہ بجائے اس کے کہ ہندوستان کے لوگ دوسروں کی اصلاح کریں اور انہیں یہ