خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 402 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 402

خطبات محمود 402 $1944 مثال نہیں ملتی وہاں اتنے قلیل عرصہ میں ان کے تنزیل کی بھی مثال نہیں ملتی۔جب قوم اٹھی تو چند ہی سال میں ساری دنیا پر چھا گئی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت راشدہ کے ساڑھے پچیس سال کے عرصہ میں عربوں نے ساری دنیا کو روند ڈالا۔مگر پھر 14،12 سال کے اندر اندر بحیثیت عرب ختم ہو گئے۔بلکہ جس دن دمشق میں حکومت چلی گئی اسی دن ملک عرب بحیثیت حکومت ختم ہو گیا۔حضرت علی اور بنو امیہ کے زمانہ میں نے بھی عربوں کا اثر تھا مگر اسے ملک عرب کا اثر نہیں کہا جاسکتا تھا۔گویا عربوں نے 25 سال کے عرصہ میں جو کچھ فتح کیا تھا اسے 13،12 سال میں کھو دیا گیا۔شام کا ملک تھا جہاں مسلمان ہے بادشاہ تھے مگر ان کا عرب مرکز نہ تھا۔مختلف ممالک پر اس خاندان کی حکومت 98 سال کے قریب بنتی ہے۔اگر اس خاندان کی حکومت کو عرب کی قومی حکومت بھی قرار دے دیا جائے میں اور اس کے زمانہ حکومت سے 25 سال کامیابی اور ترقی کے نکال دیے جائیں تو گویا73 سال کے عرصہ میں مسلمان بالکل ملیا میٹ ہو گئے۔پھر جہاں تک عربی تمدن کا تعلق تھا وہ بھی بہت جلد ختم ہو گیا۔بنو عباس عرب تھے مگر عرب بحیثیت قوم ان کی ترقی کے اثرات سے محروم تھے۔عربوں نے سپین میں بڑی ترقی کی مگر اس کا اثر بھی عربوں پر نہ پڑا۔عرب جو سپین میں جاتا وہ ذاتی طور پر فائدہ اٹھاتا مگر عرب کا ملک محروم تھا۔اب خدا تعالیٰ نے عرب کو اسلام کے دوبارہ زندہ کرنے کے لیے نہ چنا بلکہ ہندوستان کو منتخب کیا کیونکہ عرب نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چنا اور مر گیا اُسی طرح جس طرح ایک ماں بچہ جننے کے بعد مر جائے تو دوسری شادی کی جاتی ہے۔اب خدا تعالیٰ نے ہندوستان کو چنا اور ہندوستان اس بات کا حق دار تھا کہ اسے بچنا جاتا۔کیونکہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے ہندوستان ہی اس زمانہ میں تمام معروف مذاہب کی جولانگاہ ہے۔مگر مشکل یہ ہے کہ ہندوستانیوں کے لیے عربی پڑھنا اور سمجھنا اتنا آسان نہیں ہے جتنا اہل زبان کے لیے ہے۔اس وجہ سے بعض مشکلات ہیں۔عوام الناس کا جہاں تک تعلق ہے اور جتھا بندی کا جہاں تک سوال ہے ایسی اصلاح اُسی وقت ہو سکتی ہے جب قوم میں عام علم ہو۔اور ساری کی ساری