خطبات محمود (جلد 25) — Page 381
خطبات محمود 381 $1944 قرآن کی اشاعت کے سامان بھی پیدا ہو جائیں، جماعت میں کام کرنے کی عادت بھی پیدا ا ہو جائے، اسے محنت و مشقت کا برداشت کرنا بھی دو بھر معلوم نہ ہو اور وقت کو ضائع کرنے کی عادت بھی اس سے جاتی رہے۔دنیا میں جس قدر سائنس کی انسٹی ٹیوٹز ( INSTITUTES) ہیں اُن کے موجد اس لیے ایجادات کرتے ہیں کہ تا اسلام تباہ ہو اور یورپ کا فلسفہ دنیا پر غالب آئے۔مگر ہمارے موجد اس لیے ایجادات کریں گے تاکہ کفر تباہ ہو اور اسلام یورپ کے کے فلسفہ اور یورپ کے تمدن پر غالب آجائے۔یہ لڑائی ہے جو اسلام اور یورپ میں جاری ہے، یہ لڑائی ہے جو احمدیت اور یورپ کا فلسفہ آپس میں لڑنے والے ہیں۔اگر وہ اس طرف ہے لگے ہوئے ہیں کہ خدا تعالی کی فعلی شہادت کو اس کے کلام کے خلاف پیش کریں تو ہم اس طرف لگے ہوئے ہیں کہ اگر خدا تعالیٰ کی فعلی شہادت کو اُس کے کلام کی صداقت اور تائید میں پیش کریں۔اور یہ بات بالکل صاف ہے کہ اگر کوئی خدا ہے اور یقینا ہے۔اگر دنیا کو اس نے پیدا کیا ہے اور یقیناً اُس نے پیدا کیا ہے اگر قانونِ قدرت اُس کا اپنا بنایا ہوا ہے اور یقیناً اُس کا اپنا بنایا ہوا ہے تو یقینا نیچر سے جو کچھ ظاہر ہو گا قرآن کی تائید میں ہی ظاہر ہو گا، اسلام کی تائید میں ہی ظاہر ہو گا ، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید میں ہی ظاہر ہو گا۔یہ ہو نہیں سکتا کہ خدا تعالیٰ کی قولی شہادت کچھ اور کہہ رہی ہو اور اُس کی فعلی شہادت کچھ اور کہہ رہی ہو۔اگر دشمن خدا تعالیٰ کی پیدا کردہ مخلوق سے خدا تعالیٰ کے کلام کے خلاف استنباط کر رہا ہے، اگر وہ سائنس کے بل بوتے پر خدا کا کلام اُس کی فعلی شہادت کی روشنی میں غلط ثابت کرنا چاہتا ہے تو چونکہ قرآن خدا کا کلام ہے اور یہ ہو نہیں سکتا کہ خدا کی فعلی شہادت اس کے کلام کے خلاف ہو اس لیے ہمیں اس بات پر کامل یقین ہے کہ سائنس کے ذریعہ ہمیں ایسے علوم عطا کیے جائیں گے کہ یورپ کو اس مقابلہ میں سوائے پیٹھ دکھانے کے اور کوئی چارہ ہے نہیں رہے گا۔پس ہمارے لیے اس میدان میں گود کر دشمن پر فتح پانا بہت زیادہ آسان اور ہے بہت زیادہ ممکن الحصول ہے۔کیونکہ اس میدان میں ہم اکیلے نہیں جاتے بلکہ خدا کی فعلی شہادت ہمارے ساتھ ہوتی ہے۔جب مکہ فتح ہوا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس وقت جن لوگوں کے یہ