خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 378 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 378

محمود خطبات محمد 378 $1944 ہندوستان کے کسی کالج میں میسر نہیں آسکتے۔بلکہ ہندوستان کیا ساری دنیا میں کوئی ایسا کالج نہیں جہاں ان شبہات کے تدارک کا سامان ہو۔بے شک باہر کئی قسم کے کالج ہیں مگر اُن کالجوں کی غرض یورپ کے اِن پیدا کردہ شبہات کو رد کرنا نہیں بلکہ ان شبہات کی تائید کرنا اور ان وساوس میں اور ہزاروں لوگوں کو مبتلا کرنا ہے۔اگر مسلمانوں کا کوئی کالج ہے تو اس کے پروفیسر بھی ایسے ہیں جو خود ان شبہات میں مبتلا ہیں اور وہ اسلام کی فوقیت یورپ کے موجودہ فلسفہ پر ثابت نہیں کر سکتے۔اس لیے اُن کی اس طرف توجہ ہی نہیں۔پھر سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ کام اُن لوگوں کا ہے جو دینی علوم سے واقفیت رکھتے ہوں۔مگر بیرونی دنیا میں وہ خود انگریزی دان طبقہ کے تابع ہیں۔دنیا میں کوئی ایسوسی ایشن (ASSOCIATION) ایسی نہیں جہاں دین کے لوگ حاکم ہوں اور انگریزی دان اُن کے محکوم ہوں۔ساری دنیا میں صرف قادیان ہی ایک ایسا مقام ہے جہاں وہ لوگ جو دین کے نگران ہیں وہ تو حاکم ہیں لیکن انگریزی دان اور پروفیسر ان کے ماتحت ہیں۔اور یہ ایک ایسی امتیازی ہے خصوصیت ہے جو دنیا میں اور کسی مقام کو حاصل نہیں۔پس جہاں اور سوسائیٹیوں اور جماعتوں میں کا مقصد اول یہ ہوتا ہے کہ وہ یورپ کے فلسفہ کی اسلام پر فوقیت ثابت کریں وہاں ہماری جماعت کا مقصد اول یہ ہے کہ وہ خدا اور اُس کے رسول کی حکومت دنیا میں قائم کرے اور یورپ کے فلسفہ کا جھوٹا ہونا ثابت کرے۔اس لیے ہماری ہدایت کے ماتحت جو پروفیسر کام کریں گے در حقیقت وہی ہیں جو یورپ کے پیدا کردہ شبہات کا ازالہ کر سکیں گے۔خدا تعالیٰ کی حکمت ہے کہ ایک لمبے عرصہ تک میری اِس طرف توجہ ہی نہیں ہوئی کہ قادیان میں ہمارا اپنا کالج ہونا چاہیے۔بلکہ ایسا ہوا کہ بعض لوگوں نے کالج کے قیام کے متعلق کوشش بھی کی تو میں نے انہیں کہا کہ ابھی اس کی ضرورت نہیں کالج پر بہت روپیہ خرچ ہو گا۔لیکن پچھلے سال می مجلس شوری کے موقع پر بحث کے بعد یکدم جب بعض دوسرے لوگوں نے تحریک کی تو یہ اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں یہ تحریک پیدا کر دی کہ واقع میں قادیان میں جلد سے جلد ہمیں اپنا کالج کھول دینا چاہیے۔حالانکہ اُس وقت تک نہ صرف اس تحریک کا میرے دل میں کوئی خیال نہیں تھا بلکہ جب بھی کسی نے ایسی تحریک کی میں نے اس کی مخالفت کی۔لیکن اس وقت ہے