خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 350 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 350

$1944 350 خطبات محمود لوگوں کے لیے جن کے دلوں میں آئندہ اس میں شامل ہونے کی خواہش پیدا ہو ایک سکیم کا فیصلہ کیا ہے اور آج میں اُس کا اعلان کرتا ہوں۔تا وہ لوگ جو اب تک شامل نہیں ہو سکے اب اُن کے دل میں شوق پیدا ہو تو وہ اس میں حصہ لے سکیں۔شروع زمانہ میں یہ ایک اکٹھا کام تھا اس لیے ایک وقت مقرر کر دیا جاتا تھا کہ جو لوگ اس میں شامل ہونا چاہیں وہ فلاں وقت سے فلاں وقت تک وعدے کر سکتے ہیں۔لیکن اب سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص انفرادی طور پر اس میں حصہ لینا چاہے تو کس طرح لے سکتا ہے۔اس میں شک نہیں کہ سلسلہ کی اشاعت ہے کے لیے ایک مستقل فنڈ کا قیام ایک ایسی بات ہے کہ جس میں حصہ لینے کی خواہش ہمیشہ ہی دلوں میں پیدا ہوتی رہے گی۔اس لیے ایسے لوگوں کے شامل ہونے کی بھی کوئی صورت ضرور ہونی چاہیے۔جو لوگ اس تحریک کی ابتدا میں اس میں شامل ہوئے جبکہ اس کی ایسی شکل نہ تھی جو لوگوں کے لیے دلکشی کا موجب ہو اور اُس وقت شامل ہوئے جب ذہنوں میں یہ بات نہ تھی کہ اس تحریک کو خدا تعالی اسلام کی اشاعت و ترقی کے لیے ایک مستقل فنڈ کی صورت می دے دے گا۔اور جب یہ بھی معلوم نہ تھا کہ اِس میں شامل ہو کر انہیں کتنی قربانیاں کرنی پڑیں گی۔اور اُس وقت اس میں شامل ہوئے جب جماعت نازک دور میں سے گزر رہی تھی اور ہے دشمن حملہ کر کے اس سلسلہ کو ہمیشہ کے لیے مٹادینا چاہتا تھا وہ دوسروں سے ممتاز ہیں اور ممتاز ہونے کا حق رکھتے ہیں۔مگر بعد میں آنے والی نسلیں اور بعد میں جو ان ہونے والے یا بعد میں حصہ لینے کے قابل ہونے والے لوگ بھی اگر اپنے دل میں شوق محسوس کریں تو ان کے لیے بھی کوئی صورت ہونی چاہیے۔پہلے کوئی پابندی نہ تھی۔صرف یہی شرط تھی کہ پانچ روپیہ سے کم چندہ نہ دیا جائے اور تاریخ مقررہ کے اندر اندر وعدے کر دیئے جائیں۔بعض لوگ ایسے بھی تھے کہ اُن کی آمد زائد تھی مگر چندہ وہ صرف پانچ روپیہ لکھواتے تھے مگر ہم ان پر اعتراض نہ کر سکتے تھے کیونکہ ان کا ایسا کرنا اعلان کردہ شرائط کے مطابق تھا۔جہاں بعض لوگ ایسے بھی تھے کہ جن کی تنخواہیں سو سوا سو سے زیادہ نہ تھیں مگر وہ ہر سال دو اڑھائی سو روپیہ چندہ دے دیتے تھے وہاں ایسے بھی تھے کہ جن کی تنخواہیں تو پانچ سویا ہزار روپیہ ماہوار ہے تھیں مگر چندہ وہ کم دیتے تھے۔یا تاجر وغیر ہ تھے جن کی آمد تو کئی سور و پیہ ماہوار تھی مگر چندہ کم ہیں