خطبات محمود (جلد 25) — Page 315
$1944 315 خطبات محمود بہر حال میں نے روپیہ نکال لیا۔پھر میں نے اپنی بیوی کو ساتھ لیا اور خیال کیا کہ شاید عورتوں کی خدمت کی ضرورت ہو۔چنانچہ میں نے اسے کہا چل نیک بخت! شاید تیری خدمت کی ضرورت ہو۔تیسری چیز میری جان ہے سو وہ بھی حاضر ہے۔اور تلوار میرے ہاتھ میں ہے کوئی بھی آپ کا دشمن ہو میں اُس سے لڑنے اور اپنی جان دینے کے لیے تیار ہوں۔سو میں تینوں چیزیں لے کر آگیا ہوں۔اگر کسی عورت کی خدمت کی ضرورت ہے تو میری بیوی حاضر ہے، اگر روپیہ کی ضرورت ہے تو میری ساری عمر کا اندوختہ حاضر ہے، اگر جان کی ضرورت ہے تو میری جان حاضر ہے۔جس دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے کہیں میں اُس کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہوں۔اُس امیر آدمی نے شکریہ کے ساتھ اُسے رخصت کیا اور کہا میں تو صرف اپنے بیٹے کو نصیحت کرنے کے لیے یہاں لایا تھا۔اس کے بعض او باش نوجوان دوست تھے اور یہ ان کو بڑ او فادار اور سچا دوست سمجھتا تھا۔میں نے اسے بتایا کہ وہ سچے دوست نہیں ہیں۔سچا دوست اگر تم دیکھنا چاہتے ہو تو میرے ساتھ آؤ۔چنانچہ میں نے اسے دکھا دیا کہ سچا دوست کیسا ہوا ہے کرتا ہے۔مجھے کسی خدمت کی ضرورت نہیں تم اپنے گھر چلے جاؤ۔حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی اپنے ایسے ہی دوست دنیا میں چاہتا ہے۔یہی لوگ خدا تعالیٰ کی جنت میں جاتے ہیں اور انہی کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يَاَيَّتُهَا النَّفْسُ المُضنَّةُ ارْجِعِي إِلى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبدِي وَادْخُلِي جَنَّتِي 20 اے نفس مطمئنہ !جو ایک ہی طرف ٹک گیا یعنی جو ایک طرف جھکا اور پھر جھکتا ہی چلا گیا اور میرے ساتھ تعلق پیدا کرنے پر اسے اطمینان ہو گیا۔جب کسی شخص کے دل میں کوئی خلش میں ہوتی ہے وہ کبھی دائیں جاتا ہے کبھی بائیں جاتا ہے کبھی آگے جاتا ہے کبھی پیچھے جاتا ہے کیونکہ وہ نے مقصود کی تلاش اور اس کی جستجو میں محو ہوتا ہے۔ابھی اس کا مقصود اُسے ملا نہیں ہوتا۔لیکن نفسِ مطمئنہ وہ ہے جس کا مقصود اُسے مل گیا۔جیسے بچہ جب ماں سے کھویا جاتا ہے تو وہ چیختا چلاتا کبھی دائیں جاتا ہے کبھی بائیں جاتا ہے کبھی ادھر جاتا ہے کبھی اُدھر جاتا ہے لیکن جب اُس کی ماں اُسے مل جاتی ہے تو وہ اس کی گودی میں آرام سے لیٹ جاتا بلکہ بسا اوقات سو جاتا ہے۔یہی مراد ہے نفس مطمئنہ سے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے نفس مطمئنہ ! جسے میری اپنے