خطبات محمود (جلد 25) — Page 294
خطبات محج محمود 294 $1944 اس کی تیاری سے غافل رہیں۔میں جس قیامت کی خبر دے رہا ہوں وہ ہمیشہ دنیا میں آتی رہی اور آتی رہے گی۔مگر لوگوں نے نہ سمجھا اور قیامت دیکھنے کے باوجود انہوں نے یہی کہا کہ قیامت ابھی تک نہیں آئی۔کاش! ہم لوگ اس زمانہ میں ہی قیامت کی حقیقت کو سمجھیں اور ہم اس کے بد نتائج سے بچنے اور اس کے نیک نتائج سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں کہ اسی میں اسلام کی ترقی اور اسی میں احمدیت کا غلبہ ہے "۔* ( الفضل 27 / اپریل 1944ء) * بعض دوستوں نے خطبہ کے بعد مجھے لکھا ہے کہ اس الہام کا اس الہام کی طرف بھی اشارہ ہو سکتا ہے کہ دیر آمده ز راه دور آمد 116 یعنی گو جماعت کا راہ ڈور ہے مگر اس الہام کے ماتحت تم جماعت کو لے کر اسی دور کی راہ کو جلد طے کر لو گے اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث ہو گے۔خدا کرے یہ معنی درست ہوں مگر ہمارا کام یہ ہے کہ اپنی کمزوریوں پر نظر رکھیں اور قربانیوں کے لیے اپنے آپ کو تیار کریں۔یہ بہت اچھا ہے اس سے کہ ایسی امیدوں پر تکیہ رکھیں جو بعد میں پوری نہ ہوں اور ناکامیوں کے قریب کر دیں۔اللہ تعالیٰ اس بُرے دن سے محفوظ رکھے۔آمین 1 : إِلَيْهِ يُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَةِ وَمَا تَخْرُجُ مِنْ ثَمَاتٍ مِنْ أَكْمَامِهَا وَ مَا تَحْمِلُ مِنْ أُنْثَى وَ لَا تَضَعُ إِلَّا بِعِلْمِهِ وَيَوْمَ يُنَادِيهِمْ اَيْنَ شُرَكَاءِى " قَالُوا أَذَنُكَ " مَا مِنَّا مِنْ شَهِيدٍ (حم السجده:48) 2 : دیوان غالب مطبوعہ آئینہ ادب لاہور صفحہ 89 میں شعر اس طرح سے ہے وو ” جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے کیا خوب! قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور “ : روح البیان فی تفسیر القرآن لشيخ اسماعیل حقی جلد 1 صفحه 372 زیر آیت وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُول۔۔۔۔۔المطبعة النفيسة العثمانية 1306هـ 4 : سیرت ابن ہشام، جلد نمبر 4 صفحہ 334۔مطبع حجازی قاہرہ