خطبات محمود (جلد 25) — Page 290
$1944 290 خطبات محمود تباہ کر دیتا ہے۔جس دودھ کو محفوظ نہ رکھا جائے وہ پھٹ جاتا ہے۔وہی پانی فائدہ پہنچاتا ہے جس کو سنبھالا جائے اور وہی دودھ انسان کو طاقت بخشتا ہے جس کو پھٹنے سے محفوظ رکھا جائے۔پھٹا ہوا دودھ کس کام آسکتا ہے۔گرا ہوا سالن کون استعمال کرتا ہے۔کتے کے آگے پڑی ہوئی روٹی کون کھا سکتا ہے۔اسی طرح اگر ہم نے اس دودھ کو محفوظ نہ رکھا جو خدا نے ہمارے لیے نازل کیا ہے، اگر ہم نے اس کھانے کی حفاظت نہ کی جو خدا نے ہمیں دیا ہے، اگر ہم نے اس پانی کو نہ سنبھالا جو خدا نے آسمان سے اتارا ہے تو یہ پانی اور یہ دودھ اور یہ کھانا ہمارے لیے ایک طعنہ کا موجب بن جائے گا۔کیونکہ ہمیں چیز تو ملی مگر ہم نے اُس کی قدر نہ کی۔پس میں آج پھر خدا تعالیٰ کے اس پیغام کو جماعت تک پہنچاتا ہوں۔پہلے میری طرف سے ہی گھبراہٹ تھی اور میں جماعت کو بار بار کہتا تھا کہ جلد جلد بڑھو، جلد جلد اپنا قدم آگے کی طرف بڑھاؤ۔مگر اب خدا تعالی کی طرف سے بھی یہ گھبر ا دینے والا پیغام میں آگیا ہے۔روز جزا قریب ہے اور رہ بعید ہے جزا کا دن بہت قریب ہے مگر تمہاری راد بہت بعید ہے۔اب چاہے اس کے یہ معنے سمجھ لو کہ ہر ہے شخص کی موت کا دن اُس سے زیادہ قریب ہے جتنا قریب اس کے اعمال کے نتیجہ میں اسلام کی ہے فتح آسکتی ہے۔اگر وہ اِسی چال پر چلتے رہے تو ان کا یہ خیال کرنا کہ اسلام کی فتح کا دن ان کی بیتی آنکھوں کے سامنے آجائے گا، ناممکن ہے۔رفتار بہت سست ہے، کوششیں بہت محدود ہیں مگر زندگی کے ایام تھوڑے ہیں۔اور اگر چاہو تو اس الہام کے یہ معنے سمجھ لو کہ میں نے تم سے اسلام کی ترقی اور احمدیت کے غلبہ کے متعلق جس قدر وعدے کیے تھے ان تمام وعدوں کو پورا کرنے کے سامان میں مہیا کر چکا ہوں وہ وعدے اب عنقریب ظہور پذیر ہونے والے ہیں مگر اے مومنو! اگر قریب ترین عرصہ میں تم نے اس آنے والے دن کے لیے کوئی تیاری نہ کی تو یہ تم ان نعمتوں کو سنبھال نہیں سکو گے۔نعمتیں تو آئیں گی مگر بجائے اس کے کہ تم ان پر قابض رہو وہ تمہارے ہاتھ سے نکل جائیں گی۔وہ زمین پر بکھر جائیں گی، وہ تباہ اور برباد ہو جائیں گی۔میں