خطبات محمود (جلد 25) — Page 264
$1944 264 خطبات محمود ہوتا ہے اس لیے قریبی سے قریبی اور عزیز سے عزیز سے بھی آگے بڑھنے کی کوشش کرنا ہے ناجائز نہیں۔ناپسندیدہ اور قابلِ اعتراض بات نہیں۔کوئی عورت نماز میں کمی نہیں کرتی اس خیال سے کہ اپنے خاوند سے ثواب میں آگے نہ بڑھ جائے اور کوئی خاوند اللہ تعالی کی عبادت میں اس لیے کو تاہی نہیں کرتا کہ اس کی بیوی پیچھے نہ رہ جائے۔کوئی بھائی بھائی اور کوئی باپ بیٹے اور کوئی بیٹا باپ سے آگے بڑھ جانے کے خوف سے نیکیوں میں کمی نہیں کرتا۔بلکہ ہر شخص آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عبد اللہ بن مسعود روایت کرتے ہیں کہ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ رَجُلٌ أَتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَسُلِّطَ عَلَى هَلَكَتِهِ فِي الْحَقِّ وَرَجُلٌ أَتَاهُ اللهُ الْحِكْمَةَ فَهُوَ يَقْضِي بِهَا وَيُعَلِّمُهَا 2 یعنی فرمایا اللہ تعالیٰ کے نبی نے کہ دو باتیں ہیں جن میں حسد کرنا جائز ہے۔ان کے سوا کسی میں جائز نہیں۔ان دو میں بے شک باپ بیٹے سے اور بیٹا باپ سے، بھائی بھائی سے حسد کر سکتا ہے۔کیونکہ یہ باتیں روحانیت سے تعلق رکھتی ہیں۔وہ دو کیا ہیں؟ ایک یہ کہ ایسے آدمی کی حالت کے متعلق کہ اللہ تعالیٰ نے اُسے مال دیا اور اُسے اپنا مال اللہ تعالیٰ کے رستہ میں ہلاک کرنے کی توفیق دی گئی۔اگر اس بات میں کوئی دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرے تو یہ بالکل جائز ہے۔دوسرے اس موقع پر جائز ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی کو علم ، حکمت اور نفقہ عطا کیا ہے ہو اور وہ اسے دنیا میں نافذ کرتا اور لوگوں کو دین سکھاتا ہے۔یہی وہ دو چیزیں ہیں جن کا میں گزشتہ دو خطبوں میں جماعت سے مطالبہ کر چکا ہوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی میری اس تحریک کی تصدیق فرماتے ہیں۔میں نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے لوگ سامنے آئیں جو اپنے مال دین کے لیے وقف کریں اور ایسے نوجوان آگے آئیں جو دین کی اشاعت کے لیے اپنی زندگیاں وقف کریں۔تا انہیں علم سکھا کر دین کے کاموں پر لگایا جائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ یہ دو باتیں ایسی ہیں جن میں حسد جائز ہے۔خدا تعالی یہ کسی سے ہر گز نہیں پوچھے گا کہ میں نے تجھے مال دیا تھا جو تو خدا کی راہ میں خرچ کرنے لگا تھا کہ تیرے ماں باپ یا بیوی بچوں یا دوسرے رشتہ داروں نے ایسا کرنے سے تجھے روکا تو توڑ کا کیوں نہیں؟ یادین کو چند مخلص خدام کی ضرورت تھی تیرے دل میں خیال آیا کہ اپنی زندگی وقف کر دوں مگر تیرے ہیں