خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 257 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 257

$1944 257 محمود مرگئی اور ہم نے اُسے دفن کر دیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم نے مجھے کیوں نہ بتایا؟ تمہیں چاہیے تھا کہ تم مجھے بتاتے تاکہ میں اس کے جنازہ میں شریک ہو سکتا۔2 تو وہ لوگ جو دین کی خدمت کرتے ہیں دنیا میں ہمیشہ کے لیے ان کی عزتیں قائم کر دی جاتی ہیں۔بے شک یہ کہنا کہ مجھے عزت ملنی چاہیے شرم کی بات ہے۔مومن ایسا مطالبہ نہیں کیا کرتا۔لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی عزت دنیا میں ضرور قائم کی جاتی ہے۔مومن کی ہے حالت تو یہ ہوتی ہے کہ شبلی سے کسی نے پوچھا آپ اپنی عاقبت کے متعلق اللہ تعالیٰ سے کیا امید امین رکھتے ہیں؟ انہوں نے کہا میں تو خدا سے یہی کہوں گا کہ خدایا! تُو بے شک مجھے دوزخ میں ڈال دے مگر مجھ سے راضی ہو جا۔حضرت جنید کہنے لگے۔شبلی ابھی بچہ ہے۔اگر خدا مجھے کہے کہ جنید! تم کیا چاہتے ہو ؟ تو میں اُسے یہ کہوں کہ خدایا جس میں تیری رضا ہے۔اگر تو جنت میں لے جانا ہے چاہتا ہے تو جنت میں لے جا اور اگر تو دوزخ میں داخل کرنا چاہتا ہے تو دوزخ میں داخل کر دے۔10 اب دیکھو دوزخ کا خیال کر کے بھی انسان کانپ اٹھتا ہے اور ایک منٹ کے لیے بھی دوزخ کے عذاب کو برداشت نہیں کر سکتا۔لیکن اللہ تعالیٰ کے بزرگ بندے بڑی بڑی قربانیاں کرنے کے بعد بھی یہی کہتے ہیں کہ خدایا! اگر تو اسی طرح راضی ہونا چاہتا ہے تو بے شک دوزخ میں ڈال دے۔حالانکہ دوزخ وہ چیز ہے جس کا خیال کر کے بھی انسان کانپ جاتا ہے۔تو دنیا کا دوزخ کچھ چیز نہیں اور کوئی قربانی ایسی نہیں جس کا کرنا خدا اور اس کے دین کے لیے ایک مومن انسان کے لیے دو بھر ہو۔ایک بزرگ تھے۔اُن سے ایک دفعہ کسی علاقہ کے پانچ سو آدمی ملنے کے لیے گئے۔ج زیارت کر چکے تو انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ آپ ہمیں کوئی ہدایت دیں تاکہ ہم اس پر عمل کریں۔وہ بزرگ کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا میں نے سنا ہے ہندوستان میں ابھی اسلام پورے طور پر نہیں پھیلا اور وہ لوگ اس بات کے لیے بیتاب ہیں کہ مسلمان آئیں اور انہیں اپنے لیے مذہب کی تعلیم سے آگاہ کریں۔میری خواہش ہے کہ آپ لوگ ہندوستان چلے جائیں اور وہاں اسلام کی تبلیغ کریں۔وہ پانچ سو آدمی اس وقت وہاں سے اٹھے اور ہندوستان کی طرف روانہ ہو گئے۔وہ اپنے گھر بھی نہیں گئے اور سیدھے ہندوستان میں تبلیغ کرنے کے لیے چل کھڑے ہوئے۔یہی وہ قربانیاں تھیں جن کی وجہ سے آج ہمیں اپنے اندر اسلام نظر آرہا ہے۔اگر ہمارے باپ داداست می