خطبات محمود (جلد 25) — Page 250
خطبات محمود 250 $1944 میں کسریٰ کو شکست ہوئی تو غنیمت کے اموال میں کسرای کے سونے کے کنگن بھی آئے۔حضرت عمرؓ نے اس شخص کو بلایا اور فرمایا تمہیں یاد ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ تمہیں کہا تھا کہ میں تمہارے ہاتھ میں کسری کے سونے کے کنگن دیکھ رہا ہوں۔اس نے عرض کیا ہاں یاد ہے۔آپ نے فرمایا تو لو یہ کسری کے سونے کے کنگن اور انہیں اپنے ہاتھوں میں پہنو۔اس نے اپنے ہاتھ پیچھے کر لیے اور کہا عمر! آپ مجھے اس بات کا حکم دیتے ہیں می جس سے شریعت نے منع کیا ہے۔شریعت کہتی ہے کہ مردوں کے لیے سونا پہنا جائز نہیں اور آپ مجھے یہ حکم دے رہے ہیں کہ میں کسری کے سونے کے کنگن اپنے ہاتھوں میں پہنوں۔حضرت عمر جس طبیعت کے تھے وہ سب کو معلوم ہے۔آپ اُسی وقت کھڑے ہو گئے کوڑا اپنے ہاتھ میں لے لیا اور فرمایا خدا کی قسم! اگر تم یہ سونے کے کنگن نہیں پہنو گے تو میں ہے کوڑے مار مار کر تمہاری کمر اُدھیڑ دوں گا۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ کہا تھا وہی میں پورا کروں گا اور تمہارے ہاتھوں میں میں سونے کے کنگن پہنا کر رہوں گا۔تو در حقیقت یہی ہے نیکی اور یہی حقیقی ایمان ہے کہ انسان وہی طریق اختیار کرے جس طریق کے اختیار کرنے کا من العام اُسے حکم دے۔وہ اگر اسے کھڑا ہونے کے لیے کہے تو کھڑا ہو جائے اور اگر ساری رات ہے بیٹھنے کے لیے کہے تو وہ بیٹھ جائے اور یہی سمجھے کہ میری ساری نیکی یہی ہے کہ میں امام کے حکم کے ماتحت بیٹھار ہوں۔پس جماعت میں یہ احساس پیدا ہونا چاہیے کہ نیکی کا معیار یہی ہے کہ امام کی کامل اطاعت کی جائے۔امام اگر کسی کو مدرس مقرر کرتا ہے تو اس کی تبلیغ یہی ہے کہ وہ لڑکوں کو عمدگی سے تعلیم دے۔امام اگر کسی کو ڈاکٹر مقرر کر کے بھیجتا ہے تو اس کی تبلیغ یہی ہے ہے کہ وہ لوگوں کا عمدگی سے علاج کرے۔امام اگر کسی کو زراعت کے لیے بھیج دیتا ہے تو اس کی تبلیغ ہی ہے کہ وہ زمین کی عمدگی سے نگرانی کرے اور امام اگر کسی کو صفائی کے کام پر مقرر کر دیتا ہے تو اس کی تبلیغ یہی ہے کہ وہ عمدگی سے صفائی کرے۔وہ بظاہر جھاڑو دیتا نظر آئے گا، وہ بظاہر صفائی کرتا دکھائی دے گا مگر چونکہ اُس نے امام کے حکم کی تعمیل میں ایسا کیا ہو گا اس میں لیے اس کا جھاڑو دینا ثواب میں اس مبلغ سے کم نہیں ہو گا جو دلوں کی صفائی کے لیے بھیجا جاتا ہے۔وہ زمین پر جھاڑو دے رہا ہو گا لیکن فرشتے اس کی جگہ تبلیغ کر رہے ہوں گے۔کیونکہ