خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 248 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 248

خطبات محمود 248 $1944 مسلمانوں نے ترقی کی اور کثرت سے اموال آنے شروع ہوئے اُس وقت اگر ایک مسلمان بادشاہ کھڑا ہو کر اسی طرح بھیک مانگتا جس طرح خدا کے دین کے لیے ہم بھیک مانگتے ہیں (ہم بھیک تو نہیں مانگتے دینے والا سمجھتا ہے کہ ہم اس پر احسان کر رہے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ خدا نے ہم پر یہ احسان کیا کہ ہمیں ایسے مقام پر کھڑا کیا لیکن بہر حال طریق بھیک مانگنے کا ہی ہے ہے ) تو اس کو بھی یہ خیال رہتا کہ میں نے دین کی خدمت کرنی ہے اور لوگوں کے دلوں میں ہے بھی یہ احساس رہتا کہ وہ اُس وقت تک ترقی کر سکتے ہیں جب تک وہ دین کے لیے اپنے اموال خرچ کرتے رہیں۔اگر بادشاہ لوگوں سے دین کے لیے چندے مانگتے تو میں سمجھتا ہوں لوگوں میں یہ احساس ہمیشہ قائم رہتا کہ ہماری سلطنتیں دنیوی سلطنتیں نہیں بلکہ اسلامی کانسٹی ٹیوشنز (CONSTITUTIONS) ہیں۔اسلام کے مختلف محکمے ہیں جو قائم کیے گئے ہیں۔اور اُن کے ایمان بھی قائم رہتے۔مگر افسوس کہ لوگوں نے اس حکمت کو نہ سمجھا اور انہوں نے قربانیوں کا دروازہ بند کر دیا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کی ترقی معدوم ہو گئی۔پس طوعی چندے ہمیشہ قائم رہیں گے اور قائم رہنے چاہئیں۔جب یہ چیز ختم ہو جائے گی اُس وقت سمجھ لینا کہ ایمان بھی ختم ہو گیا۔یہ چیز چلتی چلی جائے گی اور خواہ سلسلہ کو کس من قدر روپیہ آنا شروع ہو جائے طوعی چندوں کا سلسلہ بند نہیں ہو گا اور نہیں ہو سکتا۔پس میں جماعت کو پھر توجہ دلاتا ہوں کہ ہمیں سندھ کی زمینوں کے لیے ایسے کارکنوں کی ضرورت ہے جو مضبوط ہوں، ہمت والے ہوں، باصحت ہوں اور دیانتداری اور محنت کے ساتھ کام کرنے والے ہوں۔میں یہ نہیں چاہتا کہ کوئی شخص اپنے آپ کو وقف کرے اور ساتھ ہی یہ کہے کہ میں فلاں قسم کے کام کے لیے اپنے آپ کو وقف کر تا ہوں۔جو شخص اپنے آپ کو وقف کرے وہ اس نیت اور اس ارادہ کے ساتھ کرے کہ میں یہ نہیں ہے دیکھوں گا کہ مجھے کہاں مقرر کیا جاتا ہے۔میرے سپر د جو کام بھی کیا جائے گا میں اسے کروں گا اور وہی کام کرنا اپنے لیے باعث سعادت تصور کروں گا۔اگر ایک شخص کو سلسلہ کی ضروریات کے لیے چوہڑے کے کام پر مقرر کیا جاتا ہے تو وہ ہر گز اس مبلغ سے کم نہیں ہے جو ؟ نیو یارک اور لندن میں تبلیغ کر رہا ہے۔آخر سلسلہ کو چوہڑے کی ضرورت ہو گی تو وہ کہاں سے ہے