خطبات محمود (جلد 25) — Page 23
خطبات محمود 23 $1944 اجتماع کوئی عقلمند مان ہی نہیں سکتا۔اور اسے تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ اس مال سے مراد ظاہری مال و دولت نہیں، ظاہری سونا اور چاندی مراد نہیں ہے بلکہ مال سے مراد وہ معارف ہیں جو مسیح موعود کی زبان پر جاری ہوں گے ، علم و عرفان کے وہ چشمے ہیں جو اس کے لبوں سے چھوٹیں گے، تعلق باللہ کے وہ اسرار ہیں جو اس کے ذریعہ عالم پر منکشف ہوں گے۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خبر یہ دی ہے کہ جب مسیح موعود آئے گا تو وہ قرآن و حدیث کے ایسے ایسے نکات بیان کرے گا، خدا اور بندوں کے تعلق کے متعلق ایسی پر معرفت باتیں پیش کرے گا اور اسلام کو غالب کرنے کے لیے ایسے ایسے علوم دنیا میں ظاہر کرے گا کہ جن سے لوگ بالکل واقف نہیں ہوں گے۔گویا اموالِ روحانی کا ایک خزانہ ان کے سامنے رکھا جائے گا مگر لوگ اپنی بیماری کی وجہ سے اور اپنی طبیعت کے گند اور نفس پرستی کی وجہ سے اُس خیر کا انکار کر دیں گے جو مسیح موعود اُن کو دے گا۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں جن کے دلوں میں اس قسم کی روحانی باتوں کی قدر و قیمت ہوتی ہے وہ جب دیکھتے ہیں کہ جماعت احمد یہ کے ذریعہ معارف کا ایک دریا بہایا جا رہا ہے تو وہ حیران ہوتے ہیں کہ یہ جماعت کر کیا رہی ہے اور کیوں ایسے انمول موتی لوگوں کے سامنے بکھیرتی چلی جا رہی ہے۔میں نے جب ایک دفعہ ذکر الہی پر جلسہ سالانہ میں تقریر کی تو غالباً ایک غیر احمدی صاحب نے مجھے ایک رقعہ لکھا کہ آپ یہ کیا کر رہے ہیں کہ وہ باتیں جو صوفیاء دس دس سال کی محنت شاقہ کے بعد لوگوں کو بتایا کرتے تھے آپ نے وہ ساری باتیں اپنی ایک ہی تقریر میں بیان کر دی ہیں۔گویا ایک طرف ہے مسیح موعود کی بعثت سے پہلے دنیا کے لوگ ایسے خراب ہو چکے تھے کہ دین کی اچھی سے اچھی ہے باتیں ان کے سامنے پیش کی جاتیں تو وہ ان کا انکار کر دیتے اور دوسری طرف وہ لوگ جنہیں تھوڑا بہت دین آتا تھا، انہوں نے دین کی ان باتوں کو اپنی تجارت کا ایک ذریعہ بنالیا تھا۔چنانچہ وہ پہلے لوگوں سے اچھی طرح خدمت لیتے اور پھر سالہا سال کے بعد کوئی ایک بات ان کو بتاتے۔منشی احمد جان صاحب لدھیانہ والے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوی سے پہلے ہی وفات پا گئے تھے۔مگر ان کی روحانی بینائی اتنی تیز تھی کہ انہوں نے مچی