خطبات محمود (جلد 25) — Page 218
خطبات محمود 218 $1944 کرتے ہیں، ان غریبوں کو غلام قرار دے رکھا ہے۔اس لیے جب ہمدردی سے ان کی خدمت کی جائے اور احسن رنگ میں اسلامی تعلیم ان کے سامنے پیش کی جائے تو عیسائیوں کی نسبت کئی گنا زیادہ کامیابی ہو سکتی ہے۔پس یہ رستہ بھی بند نہیں۔دنیوی تعلیم حاصل کرنے والے نوجوان بھی اپنے آپ کو وقف کر سکتے ہیں اور ان سے بھی فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔مگر یہ یادر ہے کہ تعلیم اور کام کے متعلق ان کا کوئی دخل نہ ہو گا۔یہ کام ہمارا ہو گا کہ ہم فیصلہ کریں کہ کس سے کیا کام لیا جائے گا۔بعض لوگ حماقت سے یہ سمجھتے ہیں کہ جو تقریر اور تحریر کرے وہی مبلغ ہے۔حالانکہ اسلام تو ایک محیط کل مذہب ہے۔اس کے احکام کی تکمیل کے لیے ہمیں ہر قسم کے آدمیوں کی ضرورت ہے۔وہی مبلغ نہیں جو تبلیغ کے لیے باہر جاتا ہے جو سلسلہ کی جائیدادوں کا انتظام تندہی اور اخلاص سے کرتا ہے اور باہر جانے والے مبلغوں کے لیے ا سلسلہ کے لیے، لٹریچر کے لیے روپیہ زیادہ سے زیادہ مقدار میں کماتا ہے وہ اُس سے کم نہیں اور خدا تعالیٰ کے نزدیک مبلغوں میں شامل ہے۔جو سلسلہ کی عمارتوں کی اخلاص سے نگرانی کرتا ہے وہ بھی مبلغ ہے، جو سلسلہ کے لیے تجارت کرتا ہے وہ بھی مبلغ ہے، جو سلسلہ کا کار خانہ چلاتا ہے وہ بھی مبلغ ہے، جو زندگی وقف کرتا ہے اور اسے سلسلہ کے خزانہ کا پہرہ دار مقرر کیا جاتا ہے وہ بھی مبلغ ہے۔کسی کام کی نوعیت کا خیال دل سے نکال دو اور اپنے آپ کو سلسلہ کے ہاتھ میں دے دو۔پھر جہاں تم کو مقرر کیا جائے گا وہی مقام تمہاری نجات اور برکت کا مقام ہو گا۔غرض میں ایک تو اس امر کی طرف جماعت کو توجہ دلاتا ہوں اور دوسراحصہ اخراجات کا ہے جس کی طرف میں توجہ دلانا چاہتا ہوں۔میں نے جائیداد وقف کرنے کی تحریک کی تھی۔قادیان کے دوستوں نے اس کے جواب میں شاندار نمونہ دکھایا ہے اور اس تحریک کا استقبال کیا ہے۔بہت سے دوستوں نے اپنی جائیدادیں وقف کر دی ہیں۔مگر بیرونی جماعتوں کی طرف سے اس تحریک کا جواب ایسا شاندار نہیں بلکہ قادیان کی نسبت نصف بھی نہیں۔* پس میں بعد میں یہ بات درست ثابت نہیں ہوئی۔کئی دن کی ڈاک پڑی ہوئی تھی، جب اسے پڑھا گیا تو سیکڑوں وعدے اُس سے نکلے ہیں۔مگر ابھی بہت توجہ کی ضرورت ہے۔